یورپی سائنسدانوں کا چاند کے لیے روبوٹک مشن کا اعلان

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حالیہ برسوں میں روبوٹک ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں نمایاں ترقی کی ہے اور اب سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو خلائی مشنز میں مزید مؤثر بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: زمین پر  پانی کیسے آیا، چاند کی مٹی سے سائنسدانوں کی پوچھ گچھ

اسی سلسلے میں یورپ کے سائنسدانوں نے چاند کے لیے ایک نئے روبوٹک مشن کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد مستقبل کی خلائی مہمات کو آسان اور محفوظ بنانا ہے۔

یورپی سائنسدانوں کا جدید منصوبہ

اس منصوبے میں یونیورسٹی آف ملاگا کے اسپیس روبوٹکس لیب کے محققین بھی شامل ہیں جنہوں نے اسپین کے آتش فشانی جزیرے لانزاروتے پر 3 جدید روبوٹس کی جانچ اور تصدیق کی۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ روبوٹ انتہائی مشکل اور زیرِ زمین ماحول میں خودمختار انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

چاند اور مریخ کے لیے زیرِ زمین دریافت

تحقیقی ٹیم نے ایک جرات مندانہ مشن تصور پیش کیا ہے، جس میں مختلف روبوٹس مل کر لاوا ٹنلز (آتش فشانی سرنگوں) کی کھوج کریں گے۔

مزید پڑھیے: چاند پر اپنا نام بھیجیں، طریقہ کار ہم بتاتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند اور مریخ پر موجود یہ سرنگیں مستقبل میں خلائی اڈوں کے لیے بہترین مقامات ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ قدرتی طور پر خلابازوں کو مہلک شعاعوں اور شہابیوں کے ٹکراؤ سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

مشکل مگر اہم ہدف

اگرچہ لاوا ٹنلز میں بے پناہ امکانات موجود ہیں تاہم ان تک رسائی نہایت دشوار ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ناہموار زمین، محدود داخلی راستے اور خطرناک حالات ان مقامات کی تحقیق کو ایک بڑا چیلنج بنا دیتے ہیں۔

خودکار تحقیق کے 4 مراحل

ماہرین نے روبوٹک تحقیق کو 4 خودکار مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ سب سے پہلے روبوٹس لاوا ٹنل کے داخلی حصے کے اردگرد علاقے کا مشترکہ نقشہ تیار کریں گے۔ اس کے بعد سینسرز سے لیس ایک کیوب نما پے لوڈ سرنگ کے اندر چھوڑا جائے گا تاکہ ابتدائی ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔

پھر ایک اسکاؤٹ روور سرنگ کے دہانے سے نیچے اتر کر اندرونی حصے تک پہنچے گا۔ آخری مرحلے میں روبوٹس سرنگ کے اندر تفصیلی تحقیق کر کے تھری ڈی نقشے تیار کریں گے۔

کامیاب آزمائش اور تکنیکی صلاحیت

یہ آزمائشی مشن جرمن ریسرچ سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی قیادت میں انجام دیا گیا جس میں یونیورسٹی آف ملاگا اور ہسپانوی کمپنی نے بھی تعاون کیا۔

مزید پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا

نتائج سے ثابت ہوا کہ یہ مشن تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہے اور مشترکہ روبوٹک نظام مستقبل کی خلائی تحقیق میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مستقبل کی خلائی مہمات کی امید

تحقیق کے نتائج سے یہ واضح ہوا ہے کہ خودمختار روبوٹس کی ٹیمیں مستقبل میں چاند اور مریخ کی دریافت میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتی ہیں۔

آگے کا راستہ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے خلائی تحقیق کے لیے مزید جدید روبوٹک ٹیکنالوجیز کی راہ ہموار ہوگی جبکہ آئندہ برسوں میں زیادہ درست اور تیز خلائی مشنز کے لیے نئے طریقے بھی دریافت کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟