وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد میں ہونے والے خودکش حملے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نمازیوں کو نشانہ بنانے والے عناصر دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے خلاف کھلا چیلنج ہے، جس کا جواب پوری قوت اور سخت ریاستی کارروائی سے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد خودکش حملہ، محسن نقوی کی مکمل تحقیقات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کی ہدایت
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان اور سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی اور دہشتگردوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ حملہ آور کا افغانستان آنا جانا رہا ہے، اگرچہ وہ افغان شہری نہیں تھا۔
بھارت اور طالبان کے گٹھ جوڑ کا الزام
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اور طالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کو حالیہ عرصے میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد وہ براہِ راست جنگ کے بجائے اپنی پراکسیوں کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

نجی ٹی وی پر گفتگو میں مزید انکشافات
نجی ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے دھماکے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہداء کی تعداد 31 ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 20 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر علاج و معالجے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
حملہ آور کی شناخت اور پس منظر
خواجہ آصف کے مطابق حملہ آور مذہبی بنیادوں پر انتہا پسندانہ سوچ رکھتا تھا اور اسے باقاعدہ طور پر ایکسپلوئٹ کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان اور دیگر مقامات پر رہا۔ اس کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ دار پشاور میں موجود ہیں، جن کا ریکارڈ ٹریک کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سانحہ: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت سے متعلق تقریبات منسوخ کردیں
تحقیقات اور حکومتی اقدامات
وزیر دفاع نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد، ریکارڈز اور ممکنہ ہینڈلرز تک پہنچنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی ادارے، اسلام آباد پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں باہمی رابطے سے کام کر رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے امن، عبادت گاہوں اور شہریوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ریاستی ردعمل فیصلہ کن ہوگا۔














