ماہرینِ فلکیات ایک غیر معمولی پیش رفت سے حیران رہ گئے ہیں جب ایک شہابِ ثاقب کی گردش نہ صرف سست ہوئی بلکہ اس کی سمت بھی الٹ گئی۔ یہ انکشاف نظامِ شمسی میں دمدار ستاروں کے طرزِ عمل سے متعلق موجودہ فہم کو چیلنج کر رہا ہے۔
2017 میں ناسا کے سوئفٹ خلائی جہاز نے مشاہدہ کیا کہ مذکورہ شہابِ ثاقب کی گردش میں اچانک کمی واقع ہوئی۔ پہلے یہ ہر 20 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتا تھا، مگر صرف 60 دنوں میں اس کا دورانیہ بڑھ کر 53 گھنٹے ہوگیا۔ ماہرین کے مطابق کسی دمدار ستارے میں اس قدر تیز رفتار تبدیلی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں نے مقناطیس کی ایک نایاب اور حیران کن قسم دریافت کرلی
بعد ازاں ہبل خلائی دوربین سے حاصل شدہ تصاویر کے تجزیے میں انکشاف ہوا کہ گردش کی سمت بھی بدلتی دکھائی دی۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر فلکیات ڈیوڈ جیوئٹ کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ ‘آؤٹ گیسنگ’ ہے، یعنی سورج کے قریب آنے پر سطح سے گیس کے طاقتور فواروں کا اخراج، جو غیر متوازن دباؤ پیدا کر کے مرکزے کی گردش پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس شہابِ ثاقب کا مرکزہ نسبتاً چھوٹا، تقریباً 0.7 کلومیٹر رداس کا ہے، جس کے باعث یہ بیرونی قوتوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کا مدار ہزاروں برس تک مستحکم رہ سکتا ہے، مگر اس کی جسمانی ساخت گردش کے عدم استحکام کے باعث چند دہائیوں میں متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چاند کی کھوج میں نیا قدم، سائنس دانوں نے جدید روبوٹک مشن متعارف کرا دیا
یہ دریافت اشارہ دیتی ہے کہ دمدار ستارے شاید اتنے طویل عرصے تک قائم نہیں رہتے جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا، اور اندرونی دباؤ بالآخر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے۔














