کاشغر کیفے: پشاور کے قصہ خوانی میں بیٹھ کر وسطی ایشیا کی سیر

بدھ 18 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قدیم زمانے میں تاجروں کا اہم پڑاؤ اور قصے کہانیوں کی وجہ سے مشہور پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں کاشغر کیفے کے نام سے ایک ریسٹورنٹ کھلا ہے، جہاں بیٹھ کر وسطی ایشیائی ممالک کی ثقافت دیکھی جا سکتی ہے۔

کاشغر کیفے کے مالک سید کاظمی کا تعلق بھی اسی قصہ خوانی بازار سے ہے اور ان کے آباؤ اجداد کا اسی مقام پر ہنڈی کرافٹ کا کاروبار تھا۔ ان کے باپ دادا کے زمانے میں وسطی ایشیائی تاجر یہاں آتے تھے، اور وہ اپنے بڑوں سے اس حوالے سے قصے سنتے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پشاور کے قہوہ خانے اس زمانے میں تاجروں کی وجہ سے آباد تھے، اور تاجر یہاں پڑاؤ کے دوران انہی قہوہ خانوں میں بیٹھ کر اپنے اپنے قصے سناتے تھے۔

مزید پڑھیں: کاشغر ایئرپورٹ پر پنجاب پولیس افسران کی لڑائی، آئی جی پنجاب نے نوٹس لے لیا

وقت بدل گیا، پشاور کے تاریخی قہوہ خانے بھی ختم ہونے لگے اور ان کی جگہ ملبوسات، جوتوں اور دیگر سامان کی دکانوں نے لے لی، جبکہ چند ایک قہوہ خانے اپنی اصل حالت میں اب بھی قائم ہیں۔

سید کاظمی کے مطابق انہیں بچپن سے ہی پشاور کی تاریخ میں دلچسپی تھی، اور پشاور میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور سیاحوں کی دوبارہ آمد کے بعد انہوں نے قصہ خوانی میں نیا کیفے کھول دیا ہے، جو قصہ خوانی کی قدیم روایت اور وسطی ایشیائی ممالک کی ثقافت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہاں بیٹھ کر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کی ثقافت کیسی ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کی قدیم روایت کو زندہ رکھنے والا قہوہ خانہ

کاشغر کیفے میں کھانے کا ذائقہ بھی الگ ہے، اور یہاں آنے والے اسے قصہ خوانی میں ایک بہترین اضافہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق قصہ خوانی میں اس سے پہلے فیملیز یا سیاحوں کے لیے اس طرح کے ریسٹورنٹ موجود نہیں تھے، اور کاشغر کیفے میں آ کر کتابوں میں قصہ خوانی کے بارے میں پڑھے گئے قصے کہانیوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑا غلط فہمی کیا ہے؟

غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ