سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دائر 10 ارب روپے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران وزیراعظم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آج دوسری جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا عمران خان پر 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس، اسپیکر پنجاب اسمبلی گواہ بن گئے
انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ان کا اختلافی نوٹ موجود ہے، جبکہ 2 معزز جج صاحبان نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی ٹانگ میں گولی لگی تھی اور زخمی ہونے کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کردیا تھا، حالانکہ اس سے قبل 2 سماعتوں پر عدالت زخمی ہونے کا عذر تسلیم کرچکی تھی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے خلاف ہرجانے کا کیس: وزیراعظم شہباز شریف جرح کے لیے طلب
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ جب عدالت زخمی ہونے کا عذر تسلیم کرچکی تھی تو پھر حقِ دفاع کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدالت دوسرے فریق کو نوٹس جاری کررہی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ہرجانے کا دعویٰ کتنی رقم کا ہے، جس پر وکیل علی ظفر نے بتایا کہ 10 ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان عدلیہ کے کاندھے پر بندوق رکھ کر فائر کرنا چاہتے ہیں، احسن اقبال
وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ میں اس وقت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے تھے، تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کارروائی مؤخر ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
جبکہ ٹرائل کورٹ نے عدم پیشی پر ان کا حقِ دفاع ختم کردیا تھا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔













