اگلے روز نیشنل پریس کلب، اسلام آباد میں معروف تجزیہ کار، کالم نگار جناب محمد صغیر قمر ڈھاکہ سے واپسی پر وہاں گزرے روز و شب کا احوال سنا رہے تھے، تب مرحوم فیض احمد فیض کی وہ حسرت یاد آئی جس کا اظہار انھوں نے 1974 میں ڈھاکہ سے واپسی کے سفر میں کیا تھا:
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
اور
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
جناب صغیر قمر جو کچھ بیان کر رہے تھے، سن کر مرحوم شاعر کو بے ساختہ نوید سنانے کو جی چاہا کہ اب ہم پھر آشنا بن چکے ہیں، خون کے دھبے دھل چکے ہیں اور بے داغ سبزے کی بہار نظروں کو سکینت بخش رہی ہے۔
وہ اپنے سفر کا احوال بیان کر رہے تھے اور ہم ان کے ساتھ ہی ڈھاکہ میں سڑکوں اور اردگرد کے دیہاتوں کی پگڈنڈیوں پر گھوم پھر رہے تھے۔ اور کہیں سے محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ ہم کسی دوسرے ملک کے لوگوں کے درمیان ہیں۔
صغیر قمر چوتھائی صدی سے کچھ زائد عرصہ صحافت کی دشوار گزار گھاٹیوں میں باقاعدہ پیش قدمی کرتے رہے۔ آج کل پروفیسر بھی ہیں، کالم نگار بھی اور ’ رحمہ اسلامک ریلیف پاکستان‘ کے روح رواں بھی ہیں۔
’ رحمہ اسلامک ریلیف ‘ کے ذریعے انہوں نے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے بچوں کی تعلیم کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ سینکڑوں تعلیمی ادارے قائم ہیں جہاں آؤٹ آف اسکول اور یتیم بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ دیہاتوں میں مستقل بنیادی مراکزِ صحت ہیں جہاں سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اسی طرح ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کو مفت ویکسین فراہم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے سینکڑوں پراجیکٹس لاکھوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔
امسال 12 فروری کو بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہوئے، جناب صغیر قمر ایک مبصر کی حیثیت سے وہاں پہنچے۔ وہاں کی انتخابی مہم بھی دیکھی، یومِ انتخاب پر بھی پوری طرح نظر رکھی اور انتخابات کے بعد کے ماحول میں بھی وقت گزارا۔ واپسی پر سینیئر صحافی جناب میاں منیر احمد کی دعوت پر جو کچھ بنگلہ دیش میں دیکھا، سنا اور محسوس کیا، وہ بیان کیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی ایک ایسی تصویر دکھائی جو ہمارے تخیل میں موجود تصویر سے بالکل مختلف تھی۔
اس سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ بنگلہ دیش کے لوگ پاکستان کے لوگوں سے ناراض ہوں گے، ان کے دل گلے شکووں سے بھرے ہوں گے لیکن برادرم صغیر قمر بتا رہے تھے بنگلہ دیش کے لوگ اس بات سے صاف انکاری تھے کہ وہ مغربی پاکستان سے الگ ہوئے تھے۔ وہاں اب بھی ہر جگہ پاکستان اور پاکستانیوں سے عشق نظر آیا۔ سوائے ایک عوامی لیگ کے ہر کوئی بھارت سے شدید نفرت کرتا ہے۔
صغیر بھائی نے ستائیس سالہ نوجوان حسنات عبداللہ کا ذکر کیا۔ بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کا سب سے کم عمر ممبر۔ جس نے اپنے حلقے کے 116 پولنگ اسٹیشنز میں سے ہر ایک پر فتح کا پرچم لہرایا۔
وہ بتا رہے تھے :’بنگلہ دیش کی سیاست کے آسمان پر جب جولائی کی بارش برسی تو پرانے چہرے دھل گئے، اور بہت سے نئے چہرے ابھر کر سامنے آئے۔ انہی ابھرتے ہوئے چہروں میں ایک حسنات عبداللہ کا تھا۔‘
’حسنات عبداللہ کسی جاگیردار خاندان کا چشم و چراغ نہیں، نہ ہی اقتدار کے ایوانوں میں اس کی پرورش ہوئی۔ وہ تو ڈھاکہ کی سڑکوں پر احتجاجی نعروں کے درمیان پروان چڑھا۔ گرد میں جوان ہوا، اور خوابوں کی چادر اوڑھے پارلیمنٹ کے دروازے تک جا پہنچا۔
2024 کے جولائی میں جب طلبہ نے امتیازی نظام کے خلاف آواز بلند کی، تو وہ اس قافلے کے سالاروں میں تھا۔ یہ آواز جب صدائے احتجاج بنی، اور صدا جب انقلاب میں ڈھلی، تو تاریخ نے جن نئے کرداروں کے نام اپنے حاشیے پر لکھے، ان میں ایک نام حسنات عبداللہ کا بھی تھا۔‘
یہ وہی حسنات عبداللہ ہے جس کی ایک تقریر سے پورے بھارت میں کھلبلی مچ گئی تھی۔
گزشتہ برس عین 16 دسمبر کے روز حسنات عبداللہ نے ڈھاکہ کے سینٹرل شہید مینار میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ڈھاکہ بھارت مخالف قوتوں، بشمول علیحدگی پسند گروہوں کو پناہ دے سکتا ہے تو اس کے ردعمل میں بھارت کے شمال مشرقی خطے المعروف ’سیون سسٹرز‘ کو الگ تھلگ کیا جا سکتا ہے۔
’سیون سسٹرز ‘ اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ کی ریاستوں کو کہا جاتا ہے۔ آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کی بنگلہ دیش کے ساتھ زمینی سرحد ملتی ہے، یوں یہ خطہ اسٹریٹجک طور پر نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔
صغیر بھائی نے بتایا کہ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش میں معاشی ترقی ہوئی لیکن یہ ترقی نیچے عوام تک نہ پہنچ سکی۔ ڈھاکہ کے مضافات ہوں یا بنگلہ دیش کا باقی دیہاتی ایریا، ہر جگہ لوگ غربت کی گہری اور تاریک کھائیوں میں کیڑوں مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک کمرے کا گھر ہوتا ہے۔ اس میں درجن بھر افراد پر مشتمل خاندان زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع بدنامِ زمانہ ’جنیوا کیمپ‘ کا بھی ذکر کیا جہاں 5000 سے زائد خاندان، جو خود کو پاکستانی النسل اور غیر بنگالی کہتے ہیں، تنگ و تاریک بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جہاں گلیاں 5 فٹ چوڑی اور ایک بھرے پرے خاندان کی رہائش گاہ محض 15×10 یا 10×10 فٹ کا ایک قفس نما کمرہ ہوتا ہے۔ اسی کے اندر نہ صرف باورچی خانہ ہوتا ہے بلکہ ایک چھوٹی سی دکان بھی ہوتی ہے۔
بنگلہ دیش میں یہ ایک کیمپ نہیں، بلکہ ایسے تقریباً 70 کیمپ ہیں۔ حسینہ واجد کے دور میں یہاں رہنے والوں سے مکمل طور پر غیر انسانی سلوک کیا جاتا رہا۔ اس قدر مفلوک الحالی میں زندگی بسر کرنے والے اب بھی پاکستان سے عشق کرتے ہیں۔
ویسے پاکستان سے محبت بنگلہ دیش کے باقی لوگ بھی کرتے ہیں۔ مثلاً جب حالیہ انتخابی مہم کے دوران میں بعض اوقات بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کے لوگ آستینیں چڑھا کر ایک دوسرے کی طرف بڑھتے، عین اسی وقت صغیر قمر بھائی لپک کر ان کے درمیان میں جا کھڑے ہوتے، پھر عجب منظر دیکھنے کو ملتا۔
دونوں گروہ فوراً اپنی پیش قدمی روک دیتے اور پسپائی کا راستہ اختیار کرتے۔ یہ ایک پاکستانی کے لیے غیر معمولی احترام تھا۔
بنگلہ دیش کے عوام اب ملک میں بھارت کے اثرورسوخ کی کوئی بھی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مئی 2025 کی 4 روزہ پاک بھارت جنگ میں جس طرح پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کی دھلائی کی، اس پر بنگلہ دیشی اب بھی واہ واہ کرتے پھرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں انڈین فوج کی ایک بار پھر ایسی ہی پٹائی ہو بلکہ بار بار ایسی پٹائی ہو۔
صغیر بھائی جس ہوٹل میں ٹھیرے تھے، اس کے بالکل سامنے دوسری طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا دفتر تھا، وہ نماز باجماعت کے لیے ادھر دفتر میں پہنچ جاتے۔ بی این پی کے سیکرٹری جنرل فخر الاسلام عالمگیر ہر نماز پر اصرار کرتے کہ آپ امامت کروائیں کیونکہ آپ پاکستان سے آئے ہیں۔
بنگلہ دیش ’را‘ کے ایجنٹوں سے بھرا پڑا ہے۔ جب تک جناب صغیر قمر بنگلہ دیش میں رہے، ان کے میزبانوں، جماعت اسلامی والوں حتیٰ کہ پاکستان میں موجود ’فکر مندوں‘ کو ان کی اور دیگر پاکستانی مبصرین کی بہت زیادہ فکر رہی۔ میزبان ہر لمحہ ان کی حفاظت کے لیے ہائی الرٹ رہتے۔
اور پھر جس دن یہ پاکستانی واپس لوٹ رہا تھا، میزبانوں کی حالت استاد دامن کے بقول ایسی تھی کہ
لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے
روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













