ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے جوابی اقدام کے طور پر یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران میں مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن میں شدت، یورپی یونین نے پابندیاں لگادیں

بیان میں کہا گیا کہ ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا۔ بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ رہی ہے جب ایک جانب امریکا کی غیر معمولی فوجی تعیناتی جاری ہے تو دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خلیج فارس میں فوجی مشقیں بھی جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے ہرمز میں بھارت جانے والے تجارتی جہاز پر حملے کی تصدیق کر دی

ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر مہلک حملے کی ذمہ دار امریکی فوج قرار، امریکی اخبار

پی سی بی نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2026 کے لیے میڈیا ایکریڈیٹیشن کی شرائط جاری کردیں

تیل کی بڑھتی قیمتیں، بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اہم اعلان کردیا

ایندھن کا بحران: سندھ کی جامعات میں 31 مارچ تک آن لائن کلاسز کا فیصلہ

ویڈیو

دنیا اتنی بری نہیں جتنی ہماری منفی سوچ اسے بنا دیتی ہے

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ، پاکستان نے بھی آپریشن شروع کردیا، عید سے پہلے عمران خان کی رہائی؟

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے