وفاقی آئینی عدالت میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب

درخواست اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کی گئی ہے جو شوکت عزیز صدیقی کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔

مزید پڑھیے: 8 فروری کو زبردست احتجاج ہوگا، پردہ دار خواتین اور بچوں پر ظلم ہو رہا ہے: محمود خان اچکزئی

درخواست گزار کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو یہ جانچنا چاہیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی آزادانہ اور شفاف طریقے سے عمل میں آئی یا نہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تقرری کے عمل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے۔

درخواست کے اہم نکات

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کے خلاف دائر درخواست میں مزید اہم نکات شامل کر دیے گئے ہیں۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں سے آئین کی بالادستی کے لیے کوشاں ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی رول 39(3) کے تحت ارکان کے دستخطوں کی آزادانہ تصدیق کرنے میں ناکام رہے۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریکارڈ پر کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آزاد ارکان نے عامر ڈوگر کو اپنی نمائندگی کا کوئی باقاعدہ اختیار دیا ہو۔

مزید پڑھیں: محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا کوئی سزا یافتہ اور نااہل شخص جیل سے بیٹھ کر پارلیمانی عمل کو کنٹرول کر سکتا ہے؟

مزید کہا گیا ہے کہ ماضی میں استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر ارکان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مقررہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کی اہم تقرریوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا دستخطوں کی تصدیق کے بغیر جاری کردہ نوٹیفکیشن محض غلطی نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا محمود خان اچکزئی کے اچھے تعلقات عمران خان کی رہائی کا سبب بن پائیں گے؟

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کر کے آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلہ صادر کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟