خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس میں 8 ارب سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس میں 8 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، 2022-23 میں سب سے زیادہ بے قاعدگیاں ہوئیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس میں 8 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں، بدانتظامی اور مبینہ مالی خردبرد کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں سال 2007 سے 2024 کے دوران صوبے کے 18 اضلاع کے ڈپازٹ اکاؤنٹس کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسپیشل آڈٹ کی منظوری کے بعد صوبے کے 18 اضلاع کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا۔

مینوئل اور ڈیجیٹل ریکارڈ میں اربوں کا فرق

آڈٹ رپورٹ کے آغاز میں ہی لکھا گیا ہے کہ اسپیشل آڈٹ کے دوران صوبے کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس میں بے قاعدگیاں پائی گئیں، جبکہ مینوئل اور ڈیجیٹل اندراجات میں واضح فرق موجود تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں کو بوگس ادائیگیوں کے انکشافات بھی سامنے آئے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس سے ٹھیکیداروں کو 5 کروڑ 53 لاکھ روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ بعض کیسز میں کسی بھی ریکارڈ کی دستیابی کے بغیر سیکیورٹی ہیڈ کے تحت 10 کروڑ 82 لاکھ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جو مشکوک قرار دی گئیں۔

آڈٹ کے مطابق مالی سال کے اختتام پر فنڈز کے لیپس سے بچنے کے لیے 53 کروڑ 54 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز سیکیورٹی اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے، جو غیر قانونی ہیں۔

ریکارڈ غائب، پنشن اور جی پی فنڈ کی ادائیگیاں بھی سیکیورٹی اکاؤنٹس سے

آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بنوں، باجوڑ اور دیگر اضلاع میں 8 کروڑ 35 لاکھ روپے کا ریکارڈ مکمل طور پر غائب پایا گیا، جبکہ سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس کے ڈیجیٹل اور مینوئل ریکارڈ میں 6 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کا نمایاں فرق سامنے آیا، جو انتظامی کمزوریوں اور ممکنہ بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سیکیورٹی اکاؤنٹس سے پنشن کی ادائیگیاں بھی کی گئیں اور اس مقصد کے لیے 25 کروڑ 96 لاکھ روپے ادا کیے گئے، جو غیر قانونی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادویات اور جی پی فنڈ کلیمز بھی سیکیورٹی اکاؤنٹس سے ادا کیے گئے، جو قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں سوات اور باجوڑ سمیت 5 اضلاع میں مجموعی طور پر 1 ارب 23 کروڑ روپے کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔

باجوڑ میں ادائیگیوں میں سنگین تضاد

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قبائلی ضلع باجوڑ میں ایک ٹھیکیدار کو اصل ادائیگی کم کی گئی، جبکہ اندراج اس سے کئی گنا زیادہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ضلع باجوڑ میں ایک ٹھیکیدار کو اصل ادائیگی 1 کروڑ 98 لاکھ روپے کی گئی، جبکہ سسٹم میں یہی ادائیگی 19 کروڑ 89 لاکھ روپے درج پائی گئی، جس سے ڈیٹا میں سنگین ردوبدل یا جعلسازی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مالی بے قاعدگیاں مالی سال 2022-23 کے دوران ریکارڈ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی کرپشن، شیر افضل مروت ہوشربا حقائق سامنے لے آئے

آڈٹ رپورٹ میں خردبرد میں ملوث افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی، اضافی اور غیر قانونی طور پر ادا کی گئی رقوم کی فوری وصولی، اور ذمہ داران کے تعین پر زور دیا گیا ہے۔

مزید برآں، آڈیٹر جنرل نے ایس اے پی سسٹم میں نئے ڈیجیٹل کنٹرولز نافذ کرنے، ٹھیکیداروں کے لیے الگ الگ لیجر برقرار رکھنے، اور سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور ماہانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔

حکومت کا ردعمل سامنے نہ آ سکا

رپورٹ میں اٹھائے گئے سنگین نکات پر حکومت خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان سے موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

آڈٹ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد صوبے میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ کوہستان میں سب سے بڑا کرپشن اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس پر نیشنل اکاؤنیبیلیٹی بیورو نے انکوائری کی اور ریکوری بھی کی گئی۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے آڈیٹر جنرل کی نشاندہی کردہ بے قاعدگیوں پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں لایا، تاہم پاکستان تحریک انصاف حکومت کرپشن کو ناقابلِ برداشت قرار دیتی آئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کی نشاندہی، محکموں کا پی اے سی میں معاملہ ختم ہو جاتا ہے

آڈیٹر جنرل پاکستان نے آڈٹ رپورٹ میں انتظامی اور مبینہ مالی بے قاعدگیوں کی ریکوری اور مستقبل میں روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی سفارش کی ہے، تاہم معاشی امور کے ماہرین کے مطابق آڈٹ رپورٹ کو براہ راست کرپشن یا مالی خردبرد کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا اور اکثر یہ معاملات محکمانہ سطح پر ہی نمٹا دیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا میں کرپشن کا بازار گرم، وزیراعلیٰ کو تبدیل کرکے تحقیقات کی جائیں، اپوزیشن لیڈر عباداللہ

سینئر صحافی منظور علی، جو معاشی امور کی رپورٹنگ کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ آڈٹ رپورٹ میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہو۔ ان کے مطابق، ’دیکھا جائے تو یہ ایک روٹین معاملہ ہے۔ آڈٹ رپورٹس میں اس نوعیت کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی معمول کی بات ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ آڈٹ رپورٹ صوبائی حکومت کو دی جاتی ہے، جس پر محکمے آڈٹ پیراز پر وضاحت پیش کرتے ہیں اور تسلی بخش دستاویزات کے بعد ان پیراز کو ختم کر دیا جاتا ہے، جبکہ باقی رہ جانے والے آڈٹ پیراز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے رکھے جاتے ہیں، جہاں متعلقہ حکام اعتراضات کے جوابات اور دستاویزات پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر پی اے سی مطمئن نہ ہو اور مزید انکوائری یا ریکوری کے احکامات جاری کرے، تب جا کر کسی معاملے کو بدعنوانی یا کرپشن کہا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp