اسلام آباد پولیس نے سال 2026 میں بھی منظم جرائم کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے مختلف وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے برآمدگی بھی کی ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق تھانہ کوہسار کی حدود میں 16 فروری کو نجی بینک میں ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ پولیس نے جدید ٹیکنیکل ذرائع، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گینگ کے 4 خطرناک ملزمان کو پشاور اور کرک سے گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ واردات کا ماسٹر مائنڈ ضیا اللہ تھا، جبکہ بینک کا سکیورٹی گارڈ عبدالرحمن سہولت کار کے طور پر شامل تھا۔ گرفتار ملزمان سے 30 لاکھ روپے نقدی، 3 پسٹل اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی، منظم کباڑی گینگ کے 3 ڈکیت گرفتار
تھانہ لوہی بھیر پولیس نے منظم ٹی سی ایس گینگ کو بھی گرفتار کیا، جو شہریوں کو یرغمال بنانے اور رقوم منتقل کرنے میں ملوث تھا۔ گرفتار ملزمان میں منیب سہیل راجپوت، محمد فہیم اور افتخار احمد شامل ہیں۔ ان سے برآمد شدہ مال میں 72 لاکھ روپے نقدی، 14 تولہ سونا، تین آئی فون، چار قیمتی گھڑیاں، 2,000 امریکی ڈالر اور 8,000 تھائی کرنسی شامل ہیں۔
تھانہ کرپا کے ایریا میں بلائنڈ مرڈر کا واقعہ بھی پیش آیا، جہاں مقتول حمید خان کو مکان کی ٹرانسفر کے تنازع پر نامعلوم ملزم عدنان شوکت ستی نے قتل کیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں قتل کی انوکھی واردات میں ملوث جوڑا 3 سال بعد کیسے گرفتار ہوا؟
اسی طرح گھریلو چوری میں ملوث سابقہ ریکارڈ یافتہ منظم کباڑی گینگ کے تین ارکان کو لیڈر سمیت گرفتار کیا گیا اور ایک کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد مالِ مسروقہ برآمد ہوا۔ گرفتار ملزمان میں سدھیر، عبدالرحمان اور وحید اللہ شامل ہیں۔
ڈی آئی جی محمد جواد طارق نے کہا کہ پولیس جدید ذرائع اور موثر اقدامات کے ذریعے منظم جرائم کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی۔














