سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور مرکزی چیئرمین قومی وطن پارٹی آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے میں اپنے 13 سالہ دور حکومت میں عوامی فلاح کے بجائے کرپشن کو فروغ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سنا ہے بانی پی ٹی آئی کرپشن سے بچنے کے لیے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، عطااللہ تارڑ
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ صوبے میں بڑے بڑے اسکینڈلز سامنے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے مطابق روزانہ نئے مالی اسکینڈلز رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں 4 ارب روپے کے سولر منصوبے سمیت متعدد معاملات شامل ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مضبوط اداروں جیسے نیب اور اینٹی کرپشن اس حوالے سے کوئی مؤثر کارروائی کیوں نہیں کر رہے۔
قومی احتساب بیورو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز افراد کے خلاف مبینہ طور پر کھربوں روپے کی جائیدادیں ہونے کے باوجود کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ بار بار وزرائے اعلیٰ تبدیل کیے گئے لیکن ہر دور میں بدعنوانی کے الزامات برقرار رہے اور اب بھی یہ افراد سیاست میں سرگرم ہیں۔
مزید پڑھیے: کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی کے سابق وزیر کے گرد گھیرا تنگ
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صوبے کے وسائل ضائع ہوں گے اور ملک کی بدنامی میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق دیگر صوبوں کے لوگ بھی خیبر پختونخوا میں کرپشن پر تنقید کرتے ہیں۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے مطالبہ کیا کہ نیب اور اینٹی کرپشن اداروں کو چاہیے کہ فوری طور پر تحقیقات کریں اور جو بھی افراد اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک سزا اور جزا کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوتا کرپشن کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی گروپنگ، سہیل آفریدی کے خلاف کون سازش کررہا ہے؟
انہوں نے زور دیا کہ شفاف احتساب کے ذریعے ہی اصل حقائق سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ مزید گفتگو دیکھیں بخار شاہ کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔













