دنیا بھر میں منگل کو ورلڈ کوانٹم ڈے منایا جا رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ اب محض نظریاتی سائنس نہیں رہی بلکہ عالمی ترجیح بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوانٹم ٹیلی پورٹیشن میں کامیابی: کیا انسان کبھی اس طرح سفر کر سکیں گے؟
اس دن کے موقعے پر حکومتیں، جامعات اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ ایک ایسے نئے دور کے لیے تیاری ضروری ہے جو مختلف شعبوں میں حکمت عملی کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ اب تحقیقی مرحلے سے نکل کر عملی دنیا میں داخل ہو چکی ہے اور کارپوریٹ اداروں، پالیسی سازوں اور انفراسٹرکچر کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔
آئی بی ایم اور ایمیزون ویب سروس سمیت بڑی کمپنیاں اس کے سماجی، اخلاقی اور سیکیورٹی اثرات پر کام کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سنہ 2030 سے پہلے ایسی کوانٹم مشینیں سامنے آ سکتی ہیں جو موجودہ انکرپشن سسٹمز کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہوں گی جس سے اداروں کے پاس تیاری کے لیے محدود وقت رہ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اداروں کو انتظار کرنے کے بجائے اپنی موجودہ سسٹمز کا جائزہ لینا ہوگا اور ایسے ڈیٹا کی نشاندہی کرنی ہوگی جو طویل عرصے تک محفوظ رہنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایسے نئے سیکیورٹی نظام اپنانا ہوں گے جو کوانٹم سطح کے حملوں کا مقابلہ کر سکیں۔
مزید پڑھیے: آئی بی ایم کا نیا کوانٹم کمپیوٹر کب لانچ ہوگا؟
یہ تبدیلی صرف تکنیکی نہیں بلکہ اخلاقیات، حکمرانی اور سماجی علوم تک بھی پھیل چکی ہے۔
مختلف ممالک میں نئی تحقیقی اسکیمیں شروع کی جا رہی ہیں تاکہ کوانٹم ٹیکنالوجی کے وسیع اثرات کو سمجھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان قریبی تعاون ہی اس میدان میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
آج کے دور میں کوانٹم کمپیوٹنگ امریکا، یورپ اور ایشیائی معیشتوں کے لیے قومی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے جہاں سب اس میدان میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی سے موجودہ مالیاتی اور مواصلاتی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے ذریعے ادویات کی تیاری، توانائی کے بہتر استعمال اور نئے مواد کی دریافت میں انقلابی پیش رفت کے امکانات بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: گوگل نے طاقتور ترین کوانٹم کمپیوٹرز میں سے ایک ’ولو‘ متعارف کرا دیا
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اداروں نے بروقت اقدامات نہ کیے تو خطرات اور اخراجات دونوں بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ابھی سے کوانٹم دور کے لیے تیاری شروع کی جائے کیونکہ یہی مستقبل کی ٹیکنالوجی اور عالمی پالیسی کا اہم رخ متعین کرے گی۔
کوانٹم کمپیوٹنگ کیا ہے؟
کوانٹم کمپیوٹنگ دراصل کمپیوٹر کی ایک نئی اور جدید قسم ہے جو عام کمپیوٹرز سے مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔ ہمارے روزمرہ کے کمپیوٹرز معلومات کو صرف دو حالتوں (0 اور 1) میں سمجھتے ہیں، جبکہ کوانٹم کمپیوٹنگ میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ایک ہی وقت میں کئی حالتوں کو سنبھال سکتی ہے جس کی وجہ سے یہ پیچیدہ مسائل کو بہت تیزی سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گوگل نے نیا کوانٹم کمپیوٹنگ الگورتھم تیار کرلیا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں انقلاب بپا کرنے کا اعلان
آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر ایک عام کمپیوٹر کسی مشکل مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک ایک راستہ آزما کر آگے بڑھتا ہے تو کوانٹم کمپیوٹر بیک وقت کئی راستوں پر کام کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے مستقبل کی طاقتور ترین ٹیکنالوجی تصور کیا جا رہا ہے خاص طور پر ایسے کاموں میں جہاں بہت زیادہ ڈیٹا اور پیچیدہ حساب کتاب شامل ہو۔
کوانٹم کمپیوٹنگ کا اہم میدانوں میں کردار
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ادویات کی تیاری، توانائی کے بہتر استعمال اور سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ ابتدائی مرحلے میں ہے اسی لیے عام صارفین کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں لیکن آنے والے برسوں میں یہ ہماری روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔














