سخاوت کی زندہ مثال: حاتم طائی کے شہر کے باسیوں نے کس طرح مہمان نوازی کی روایات زندہ رکھی ہیں؟

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے شمالی میں واقع تاریخی شخصیت حاتم طائی کے شہر حائل میں رمضان کے دوران مدافا یا مہمان خانے تمام عمر کے لوگوں اور ہر طرح کے مہمانوں کو عشاء کی نماز کے بعد خوش آمدید کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: بار بار دیکھنے کی ہوس

کئی مہمان بلا دعوت بھی آتے ہیں مگر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ میزبان کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔

حائل کی تاریخی اور روایتی اہمیت

حائل شہر کئی مشہور مدافا کے لیے جانا جاتا ہے اور یہ حاتم طائی کا آبائی شہر ہے جنہیں عرب دنیا میں سخاوت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ان میں سب سے نمایاں مدافا النعام اور العبیدہ کے ہیں۔

مدافا کا مرکزی دروازہ عام دنوں میں بڑا اور کھلا رہتا ہے مگر رمضان میں یہ مغرب کی نماز سے قبل کھلتا ہے اور فجر کی نماز تک کھلا رہتا ہے۔

مہمان نوازی اور تیاریاں

سپروائزر محمد النعام نے بتایا کہ انہوں نے رمضان کے دوران مہمانوں کے استقبال کے لیے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مدافا میں نرم روشنی، قرآن اور ذکر کے لیے ایک مخصوص کونا بنایا گیا ہے تاکہ مہمان کو سکون اور راحت فراہم کی جا سکے اور رمضان کی منفرد فضا قائم رہے۔

انہوں نے کہا کہ مدافا سب کے لیے کھلا رہ کر یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کو عطیہ دینے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے یا اجتماعی خیراتی اقدامات اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔

رمضان کے دوران روایتی تقریبات

رمضان کے دوران یہاں گروپ افطار ڈنر، مہمان مقررین کے لیکچرز، نماز اور مختلف خیراتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔

موسم خوشگوار ہونے پر مہمان صحن میں لکڑی کی کرسیاں اور روایتی کپڑوں سے مزین نشستوں پر آگ کے گرد بیٹھتے ہیں۔ سخت سرد یا گرم موسم میں مہمان شاندار طریقے سے سجے ہوئے بڑے خیمے میں فرش کے کشن پر بیٹھتے ہیں۔

مہمان نوازی اور روایت

مہمان عموماً ایک یا 2 کھجور کھاتے ہیں، پھر کافی پیش کی جاتی ہے۔

کافی کا انکار کرنا بد تمیزی سمجھا جاتا ہے اور صرف ایک کپ (3 گھونٹ پر مشتمل) پینا بھی معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں۔ مہمان کم از کم 2 کپ پیتا ہے اور آخر میں کپ ہلا کر اشارہ کرتا ہے کہ کافی پی لی گئی ہے۔

اگر مہمان میزبان خاندان کے لیے اجنبی ہو تو میزبان زور دیتا ہے کہ مزید کافی پییں اور مہمان انتخاب کر سکتا ہے کہ وہ قبول کرے یا نہ کرے۔ کافی بنانے والا پھر اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا جاتا ہے جہاں کئی کافی کے برتن، چائے کے برتن اور کم از کم ایک پلیٹ کھجور رکھی ہوتی ہے۔

دیواریں عموماً میزبان کے بزرگوں کی تصویروں سے سجی ہوتی ہیں اور ہال میں حائل کی مقامی ثقافت کے مطابق آرائشی نمونے ہوتے ہیں۔ مہمان خاص طور پر اجنبی کو آرام دہ بیٹھنے کے لیے مارکا یا بازو کی آرام گاہ کے پاس بٹھایا جاتا ہے۔

گفتگو اور روحانی ماحول

رمضان میں گفتگو عام طور پر روحانی موضوعات، خیرات، صبر کی کہانیاں اور غریب، محتاج اور قرض دار افراد کے لیے فکر کے گرد گھومتی ہے جس سے مہمان نوازی اور بھائی چارے کا حقیقی جذبہ نمایاں ہوتا ہے۔

حاتم الطائی عرب دنیا میں سخاوت اور مہمان نوازی کی علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ آج کے سعودی عرب کے شمالی علاقے حائل کے حکمران تھے اور اپنی فراخ دلی، دوسروں کی مدد اور کسی بھی مہمان کو بلا تفریق خوش آمدید کہنے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی کہانیاں اور اقوال صدیوں سے عرب روایت اور ادب کا حصہ رہی ہیں، اور ان کا نام آج بھی سخاوت کی مترادف سمجھا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ حاتم طائی کا کردار نہ صرف اخلاقی اور سماجی اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ ان کی مثال آج بھی لوگوں کو دوسروں کی مدد کرنے، مہمان نوازی کو فروغ دینے اور کمیونٹی کے لیے خیرات کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ رمضان کے دوران حائل کے مدافا میں مہمانوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا اسی روایت کی زندہ تصویر ہے جسے حاتم طائی کی یاد اور ان کے جذبہ سخاوت سے جوڑا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟