کراچی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی کی عدالت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، نریندر مودی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کئی برسوں سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور لاکھوں ایرانی شہریوں کو دھمکیاں دے رہے تھے اور اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان میں افراتفری پیدا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی حملے میں نیتن یاہوکی ہلاکت کی افواہیں، لوگ گروک سے کیا پوچھ رہے ہیں؟
مزید کہا گیا کہ 16 اور 25 فروری کو نریندر مودی نے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کیے اور امریکا و اسرائیل نے ایران پر 300 سے زائد حملے کر کے ایرانی سپریم لیڈر کو شہید کیا۔
درخواست گزار نے کہا کہ ایران پر حملوں سے وہ خود اور لاکھوں مسلمان ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہوئے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا، تاہم عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او ڈاکس کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی
عدالت نے پراسکیوشن، ایس ایس پی کمپلین سیل کیماڑی اور ایس ایچ او ڈاکس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 5 مارچ تک جواب طلب کر لیا۔














