بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ، 22 کروڑ بچے متاثر ہونے کا خدشہ

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ادارہ ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک دنیا بھر میں 5 سے 19 سال عمر کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بچپن کا موٹاپا زندگی بھر کے خطرے کی علامت ہے؟

رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے میں مبتلا تھے، تاہم موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔

صحت کے مستقل مسائل کا خطرہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2040 تک لگ بھگ 12 کروڑ اسکول جانے والے بچوں میں مستقل اور مزمن بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں، جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس شامل ہیں۔ اس کی بڑی وجہ جسمانی وزن کے اشاریے یعنی بی ایم آئی میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی چیف ایگزیکٹو جوہانا رالسٹن کے مطابق بچوں میں موٹاپے میں تیزی سے اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی برادری اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی پوری نسل کو موٹاپے اور اس سے جڑی خطرناک غیر متعدی بیماریوں کی طرف دھکیلنا درست نہیں۔

زیادہ متاثر ممالک

رپورٹ میں ممالک کو BMI کی بنیاد پر درجہ بندی کیا گیا ہے جس کے مطابق چین 6 کروڑ 20 لاکھ متاثرہ بچوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4 کروڑ 10 لاکھ اور امریکا میں 2 کروڑ 70 لاکھ بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موٹاپا اور شوگر کا خطرہ، چاول پکانے سے پہلے ضرور کریں یہ کام

یورپ میں برطانیہ سب سے زیادہ متاثر ملک قرار دیا گیا جہاں تقریباً 38 لاکھ بچوں کا BMI خطرناک حد تک بلند ہے۔ اندازہ ہے کہ 2040 تک برطانیہ میں 5 سے 19 سال عمر کے 3 لاکھ 70 ہزار بچوں میں دل کی بیماریوں جبکہ 2 لاکھ 71 ہزار میں بلند فشار خون کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

کم آمدنی والے ممالک میں تیز اضافہ

رپورٹ کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ خوراک کے غیر صحت بخش رجحانات اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرماسنگھے نے کہا کہ متعدد حکومتیں خوراک کی صنعت کو بغیر پابندی بچوں کو ہدف بنانے کی اجازت دے رہی ہیں، جبکہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اوپن اے آئی نے نئے ماڈل پر سیکیورٹی پابندیاں سخت کردیں، خودکار سائبر حملوں کا خدشہ

روس، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مال بردار ریل سروس شروع کرنے پر کام جاری

روبوٹ کتے چاند پر پہرہ دیں گے، چین نے مستقبل کے قمری اڈوں کا منصوبہ پیش کردیا

وزیر خزانہ سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دوطرفہ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

جنوبی کوریا: آنکھیں کھلتے ہی بچوں کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھلنے لگے، یہ رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

ویڈیو

مسلم لیگ ن کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی اب کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

کالم / تجزیہ

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ