چین مستقبل میں چاند پر قائم کیے جانے والے اڈوں کی حفاظت اور وہاں سائنسی تحقیق کے لیے انسانوں اور روبوٹس کو ایک ساتھ کام کرنے والی ٹیموں کی صورت میں استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرین فلکیات کو چاند پر بھی ’اڑن طشتریاں‘ دکھائی دے گئیں، ماجرا کیا ہے؟
چینی محققین نے سنہ 2035 تک چاند پر قائم کیے جانے والے ممکنہ اڈوں کی سیکیورٹی کے لیے روبوٹ کتوں کی تعیناتی کی تجویز پیش کی ہے جبکہ انسان نما روبوٹس کو چاند کی سطح پر وسائل کی تلاش اور دیگر کاموں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
چینی جریدے چائنیز اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ایسے قمری اڈے کا تصور پیش کیا گیا ہے جہاں تین خلا باز روبوٹ کتوں کے ساتھ چاند کی سطح پر تحقیق کریں گے۔
اس مجوزہ مشن کے دوران خلا باز چاند کی سطح سے چٹانوں کے نمونے جمع کریں گے اور ان کا کیمیائی تجزیہ کریں گے جبکہ روبوٹس مختلف جسمانی اور معاون کام انجام دیں گے۔
محققین کے مطابق چین انسانی خلائی پرواز کی حدود کو زمین کے مدار سے آگے چاند تک بڑھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانوں اور روبوٹس کے درمیان تعاون کا یہ ماڈل دونوں کی مختلف صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مستقبل میں چین کے قمری تحقیقی اسٹیشن کی تعمیر اور مؤثر آپریشن کے لیے رہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔
مزید پڑھیے: چاند کی گرد میں خلائی مخلوق کی تہذیبوں کے آثار چھپے ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق
چاند کے ماحول کو دیکھتے ہوئے انسانوں اور روبوٹس کا مشترکہ استعمال خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔ چاند پر شدید تابکاری، انتہائی درجہ حرارت اور کم کششِ ثقل جیسے عوامل موجود ہیں، جن کی وجہ سے صرف انسانوں یا صرف روبوٹس پر انحصار کرنے والے مشنز کئی حوالوں سے کم مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اگر کسی روبوٹ کو چاند پر کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہو جس کا اسے پہلے تجربہ نہ ہو تو انسان اس کی رہنمائی کرکے اسے بہتر فیصلہ کرنے اور صورتحال سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس ماڈل میں روبوٹس بنیادی طور پر جسمانی کام انجام دیں گے جبکہ انسان اعلیٰ سطح کے فیصلے، نگرانی اور غیر معمولی حالات میں رہنمائی فراہم کریں گے۔
مزید پڑھیں: سیاروں، ستاروں اور چاند کی حدیں دھندلا گئیں، ماہرین نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر چاند دریافت کر لیا
محققین کے مطابق انسانوں اور روبوٹس کا یہ مربوط طریقہ کار قمری اڈوں کو زیادہ طویل عرصے تک چلانے اور ایسے وسیع علاقوں میں تحقیق کرنے میں مدد دے سکتا ہے جہاں صرف انسانوں یا صرف روبوٹس کے ذریعے کام کرنا مشکل ہوگا۔
چین روس اور دیگر شراکت دار ممالک کے تعاون سے چاند کے جنوبی قطب کے قریب انٹرنیشنل لیونر ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔ چین کا ہدف سنہ 2030 تک اپنے خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ
اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو مستقبل کے قمری مشنز میں انسان اور مشین محض ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک ہی ٹیم کے ارکان کے طور پر کام کرتے نظر آسکتے ہیں جہاں روبوٹس خطرناک اور جسمانی کام انجام دیں گے جبکہ انسان اہم سائنسی اور فیصلہ سازی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔














