چین کے لیے جاسوسی: برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کے شوہر سمیت 3 افراد گرفتار

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں لیبر پارٹی سے وابستہ ایک سابق مشیر سمیت 3 افراد کو چین کے لیے جاسوسی کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لیبر رکنِ پارلیمنٹ جونی ریڈ کے شوہر ڈیوڈ ٹیلرکو لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ چین تعلقات: اسٹارمر کی پیش قدمی، ٹرمپ کی سخت وارننگ

یہ گرفتاری چین سے متعلق قومی سلامتی کے جرائم کی وسیع تحقیقات کا حصہ بتائی جا رہی ہے، ان پر شبہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی معاونت کی۔

پولیس نے اس کے علاوہ ویلز کے علاقے پاوِس سے 68 سالہ اور پونٹیکلِن سے 43 سالہ ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا ہے۔

حکام نے ان دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ بھی لیبر پارٹی کے سابق مشیر رہ چکے ہیں۔

ڈیوڈ ٹیلر ماضی میں لیبر رہنما لارڈ پیٹر ہین کے خصوصی مشیر رہ چکے ہیں، جب ہین ویلز کے سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ اور چین کے تعلقات میں نئی شروعات، کیئر اسٹارمر کی معاشی تعاون پر توجہ

بعد ازاں ٹیلر ایک لابنگ کمپنی ارتھ کاٹ کے ساتھ وابستہ رہے، وہ لیبر پارٹی کے حلقوں میں وسیع روابط رکھتے ہیں۔

ان کی کمپنی کو لیبر کے کاروباری گروپ ایس ایم ای فور لیبر کے حامیوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔

ٹیلر اس وقت تھنک ٹینک ایشیا ہاؤس میں پالیسی اور پروگرامز کے ڈائریکٹر بھی ہیں، جو وسطی ایشیا سے متعلق آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔

اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد ایسٹ کِل برائیڈ اور اسٹراؤہیوَن سے رکنِ پارلیمنٹ اور ہوم افیئرز کمیٹی کی رکن جونی ریڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں کبھی کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس سے انہیں شبہ ہو کہ ان کے شوہر نے کوئی قانون توڑا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی ٹریڈ وار نے برطانیہ اور چین کو قریب کردیا؟

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں اور نہ ہی وہ یا ان کے بچے اس تحقیقات کا حصہ ہیں، اس لیے میڈیا کو ان کے خاندان کی نجی زندگی کا احترام کرنا چاہیے۔

ریڈ کا کہنا تھا کہ وہ کبھی چین نہیں گئیں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں چین سے متعلق کوئی سوال اٹھایا یا تقریر کی ہے۔

ان کے مطابق بطور رکنِ پارلیمنٹ انہوں نے کبھی کسی چینی کمپنی، سفارت کار یا سرکاری اہلکار سے ملاقات بھی نہیں کی۔

یہ گرفتاریاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب 6 ماہ قبل پروسیکیوشن سروس نے چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار 2 افراد کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ نے انتخابی عمل پر سائبر حملوں کا الزام چین پر لگا دیا

ان میں سے ایک شخص 2 کنزرویٹو ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمانی معاون کے طور پر کام کر چکا تھا۔

ادھر وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کو چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں پر سیاسی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر

پارلیمنٹ کے اسپیکر لنڈسے ہوئل نے واضح کیا کہ گرفتار افراد کے پاس ویسٹ منسٹر پارلیمنٹ تک رسائی کے لیے کوئی پارلیمانی پاس موجود نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک پیشگی کارروائی کا حصہ ہیں اور فی الحال عوام کے لیے کسی فوری خطرے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

تاہم سیکیورٹی ادارے برطانوی جمہوریت میں بیرونی مداخلت اور پالیسی سازی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کی مسلسل تحقیقات کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

معروف اداکارہ محض 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

پاکستان اور برطانیہ میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، اصلاحات اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلۂ خیال

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ