ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ مقدار میں میٹھے مشروبات پینے والے نوجوانوں میں بے چینی اور اضطراب کی علامات ظاہر ہونے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق مختلف سائنسی مطالعات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ جو نوجوان باقاعدگی سے چینی سے بھرپور مشروبات استعمال کرتے ہیں، ان میں بے چینی کی شکایات سامنے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انزائیٹی، بے چینی اور اوورتھنکنگ سے نجات کیسے ممکن ہے؟
اس جائزے میں 9 مختلف مطالعات کا تجزیہ کیا گیا جن میں مجموعی طور پر 70 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کا ڈیٹا شامل تھا۔ ان مطالعات میں سوالناموں اور سروے کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی صحت اور میٹھے مشروبات کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں انرجی ڈرنکس، سوڈا، زیادہ پراسیس شدہ مشروبات اور ذائقہ دار دودھ سمیت مختلف اقسام کے میٹھے مشروبات کو شامل کیا گیا۔
نتائج کے مطابق ایسے نوجوان جو زیادہ مقدار میں میٹھے مشروبات استعمال کرتے ہیں، ان میں بے چینی کی بیماری پیدا ہونے کے امکانات 34 فیصد تک زیادہ پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: شور کی آلودگی ایک ’خاموش قاتل‘ بن گئی، شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے صرف یہ تعلق ظاہر ہوتا ہے، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میٹھے مشروبات ہی براہ راست بے چینی کا سبب بنتے ہیں۔
تحقیق میں شامل ایک مصنف کے مطابق حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں بے چینی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے طرزِ زندگی کے عوامل کی نشاندہی کی جائے جنہیں تبدیل کر کے اس رجحان کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ بعض اوقات جو بچے پہلے ہی بے چینی محسوس کرتے ہیں وہ زیادہ میٹھے مشروبات استعمال کرنے لگتے ہیں، جبکہ نیند کی کمی، گھریلو ماحول اور دیگر عوامل بھی اس صورتحال پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی دباؤ میں ناک کیوں ٹھنڈی ہوجاتی ہے؟
محققین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کے روزمرہ مشروبات کے انتخاب پر توجہ دیں کیونکہ یہ عادت ان کی ذہنی صحت سے بھی جڑی ہوسکتی ہے۔













