مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بنگلہ دیش کو بین الاقوامی پروازوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ڈھاکا کے حضرت شاہجہلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی آف بنگلہ دیش کے مطابق ایران، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن نے 28 فروری 2026 سے اپنا فضائی حدود بند کر دیا، جس کے اثرات ڈھاکا سے روانہ ہونے والی پروازوں پر براہِ راست پڑے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش عالمی برادری سے مضبوط تعلقات کا خواہاں، وزیر اعظم طارق رحمان
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے 7 مارچ کے دوران مجموعی طور پر 268 بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ سب سے زیادہ منسوخ ہونے والی پروازیں 2 مارچ کو 46 تھیں، اس کے بعد 1 مارچ کو 40 اور 3 مارچ کو 39 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ صرف 7 مارچ کو ہی مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ایئر لائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئر ویز، گلف ایئر، ایئر عربیا، جزیرا ایئر ویز اور کویت ایئر ویز کی کم از کم 20 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیش محدود پیمانے پر پروازیں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ان مقامات کی طرف جہاں فضائی حدود کھلی ہیں۔ حکام کے مطابق اسی دوران 214 پروازیں مشرقِ وسطیٰ کے مقامات جیسے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے لیے چلائی گئی یا منصوبہ بند کی گئی ہیں، جو بنگلہ دیشی محنت کشوں اور کاروباری مسافروں کے لیے اہم راستے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اتحاد ایئرویز کی محدود پروازیں ابوظہبی سے دوبارہ شروع، کہاں تک سفر کریں گی؟
7 مارچ کو 41 پروازیں متوقع تھیں جن میں 18 سعودی عرب، 17 متحدہ عرب امارات اور 6 عمان کی طرف جانے والی پروازیں شامل تھیں، جس سے دکھایا گیا کہ مشکل حالات کے باوجود رابطہ قائم رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی بندشوں نے ایئر لائنز، مسافروں اور ایئرپورٹ انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، اور مستقبل میں پروازوں کے شیڈول کی صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کے حالات پر منحصر ہوگی۔














