خلیج میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سمندری تجارت پر بڑے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس پریمیم میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بعض معاملات میں ایک ہزار فیصد سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔
🚨 JUST IN: A LARGE tanker has just SAFELY made its way through the Strait of Hormuz amid the conflict with Iran, per Sec. Chris Wright
Great news for energy prices!
This is because Iran is getting DECIMATED by the US and Israel, their capabilities are dwindling
WRIGHT: "The… pic.twitter.com/BEXn7wcbMO
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) March 8, 2026
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے عالمی توانائی کی ترسیل، شپنگ لاگت اور مہنگائی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے جہاز رانی متاثر
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیجی خطے میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے جس کے باعث دنیا کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ تنازع شروع ہونے کے بعد کم از کم نو جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی بندش: تیل کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ، فی بیرل 100 ڈالر تک بڑھنے کا امکان
جنگی خطرات کی انشورنس پریمیم میں غیر معمولی اضافہ
جنگی خطرات کے خلاف انشورنس پالیسی جہاز مالکان کو جنگ یا دہشت گردی کے باعث ہونے والے نقصان کا دعویٰ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اس انشورنس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بعض کیسز میں پریمیم ایک ہزار فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔
BREAKING: Indonesia says 3 crew missing after UAE tugboat sank in Strait of Hormuz
🔴 LIVE updates: https://t.co/UcvzO2WjM1 pic.twitter.com/Q1BaJEYSWv
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) March 8, 2026
انشورنس بروکر کمپنی اے اون کے ایشیا ریجن کے سربراہ اسٹیفن روڈمین کے مطابق اگر ایک ہی علاقے میں کئی جہاز متاثر ہوتے ہیں تو انشورنس کمپنیوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، اسی لیے مارکیٹ فوری ردعمل دے رہی ہے اور شرحیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
توانائی کی عالمی سپلائی پر دباؤ
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال روزانہ اوسطاً 2 کروڑ بیرل خام تیل اور دیگر ایندھن آبنائے ہرمز سے گزرتا رہا، جو دنیا کی مجموعی تیل کھپت کا تقریباً 5واں حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ متاثر رہا تو عالمی توانائی سپلائی اور قیمتوں پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
جہازوں اور کارگو کی انشورنس لاگت میں بڑا فرق
مالیاتی ادارے جیفریز کے مطابق تنازع شروع ہونے سے پہلے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس تقریباً 0.25 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس حساب سے تقریباً 25 کروڑ ڈالر مالیت کے ایک آئل ٹینکر کے لیے انشورنس پریمیم تقریباً 75 لاکھ ڈالر تک ہو سکتا ہے، جو پہلے صرف 6 لاکھ 25 ہزار ڈالر کے قریب تھا۔

خلیج میں اربوں ڈالر مالیت کے جہاز موجود
لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کے مطابق خلیج اور اس کے اطراف میں اس وقت تقریباً ایک ہزار جہاز موجود ہیں جن میں سے نصف تیل اور گیس کے ٹینکر ہیں۔ ان جہازوں کی مجموعی مالیت 25 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور ان میں سے بیشتر کا بیمہ لندن کی انشورنس مارکیٹ میں کیا گیا ہے۔
امریکا کی جانب سے ممکنہ اقدامات
امریکی حکومت نے صورتحال کے پیش نظر تیل کی سپلائی بحال رکھنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے اور اسے ماضی میں کب کب بند کیا گیا؟
انہوں نے امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کو ہدایت بھی دی ہے کہ خلیج میں سمندری تجارت کے لیے سیاسی خطرات کی انشورنس اور مالی ضمانتیں فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔














