جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خوشاب کے ایک لڑائی جھگڑے کے ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کی۔
وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے جھگڑے کے دوران مدعی عمر دراز کو راڈ مار کر گھٹنے کی ہڈی توڑ دی اور اس کے خلاف مزید 18 مقدمات بھی درج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تکنیکی بنیاد پر انصاف کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے، سپریم کورٹ
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ملزم کو کمرہ عدالت میں سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا رویہ اچھا نہیں لگ رہا، وہ کیا کوئی بدمعاش ہے۔
’عدالت میں بھی صحیح طریقے سے نہیں کھڑے ہو۔ تم کون ہو جو لوگوں کے پائوں توڑتے رہتے ہو۔‘
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر فریقین کے درمیان صلح نہ ہوئی تو معاملہ قتل وغارت تک جا سکتا ہے اور ملزم کی تمام بدمعاشیاں عدالت کے سامنے لائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: اصلاحی نظرثانی کے نام پر سپریم کورٹ کے فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے، آئینی عدالت
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مدعی سے مکالمے میں پوچھا کہ کیا وہ صلح کرنا چاہتے ہیں، جس پر مدعی نے کہا کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے، وہ معاف نہیں کریں گے، ملزم کو سزا دی جائے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم بولے؛ لوگ تو قتل بھی اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیتے ہیں، مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم گھٹنا توڑنے کے باوجود دھمکیاں دیتا اور بدمعاشی کرتا رہا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے واضح کیا کہ خوشاب کے لوگ لڑائی جھگڑا ایسے نہیں چھوڑتے، ملزم کی ساری بدمعاشیاں نکال دیں گے، صلح ایسے نہیں ہوگی اور ملزم پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: شک کا فائدہ ملزم کو، سپریم کورٹ نے باپ کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی
عدالت نے خبردار کیا کہ آئندہ سماعت تک اگر ملزم راضی نامہ پیش نہ کرے تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
مقدمے کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔














