مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں انڈیکس 450 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
دوپہر 2 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 169,865.78 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، جو 464.78 پوائنٹس یعنی 0.27 فیصد کم تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج پر فروخت کا دباؤ برقرار، منفی زون میں ٹریڈنگ جاری
ٹریڈنگ کے دوران آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔
اس سے ایک روز قبل منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحالی دیکھنے میں آئی تھی۔
Market is down at midday 🔻
⏳ KSE 100 is negative by -65.03 points (-0.04%) at midday trading. Index is at 170,265.53 and volume so far is 82.15 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/Z8oP52o3VF— Investify Pakistan (@investifypk) June 10, 2026
ایران اور اسرائیل کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، جس سے مختلف شعبوں میں خریداری کا رجحان بڑھا۔
نتیجتاً کے ایس ای 100 انڈیکس 1,376.85 پوائنٹس یعنی 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 170,330.56 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
عالمی سطح پر بھی بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔

امریکا نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔
اس صورتحال نے فریقین کے درمیان نازک جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: عید کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کمی
ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس0.6 فیصد گر گیا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 0.9 فیصد اور جنوبی کوریا کا ٹیکنالوجی پر مبنی کوسپی انڈیکس 2 فیصد تک نیچے آگیا۔
دوسری جانب امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برینٹ خام تیل 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 0.8 فیصد بڑھ کر 88.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔














