خیبر پختونخوا کے لوکل گورنمنٹ ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج بن گئے اور باچا خان چوک کو بند کرکے احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میڈیا اداروں کو ادائیگی اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں دینے سے مشروط ہوگی، پنجاب حکومت کا فیصلہ
احتجاجی ملازمین لوکل گورنمنٹ کے دفتر میں جمع ہوئے اور باچا خان چوک پہنچے جہاں انہوں نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکیل ایک سے لے کر 16 تک کے ملازمین کو ابھی تک فروری کی تنخواہ نہیں ملی، جبکہ رمضان کے مہینے میں حکومت نے تنخواہیں جلد دینے کا اعلان کیا تھا۔
احتجاج میں شامل ایک ملازم نے بتایا کہ رمضان کے مبارک مہینے میں بھی انہیں تنخواہ نہیں ملی جس سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین کو فروری سے تنخواہوں کی ادائیگی روکی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملازمین مجبور ہو کر روزے کی حالت میں سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے ملازمین کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور رمضان میں اخراجات کے لیے قرضے لینے پر مجبور ہیں۔
مزید پڑھیے: اراکین اسمبلی کی تنخواہیں نہیں بڑھیں گی، جیب سے دینے کو تیار ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ملازمین نے کافی دیر تک باچا خان چوک پر احتجاج کیا جس سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ لوکل گورنمنٹ کے ایک اور ملازم ملک نوید نے بتایا کہ ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دیگر اداروں کے ملازمین کو بروقت ادائیگی ہو رہی ہے جبکہ عید کے لیے پیشگی ادائیگی بھی ہوگی، لیکن انہیں ابھی تک فروری کی ادائیگی نہیں ہوئی جبکہ عید بھی قریب آ گئی ہے۔
احتجاج کے باوجود بھی ملازمین کے پاس حکومت کی جانب سے کوئی نہیں آیا۔ احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد ملازمین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔
مزید پڑھیں: جو بڑھی ہوئی تنخواہیں نہیں لینا چاہتا وہ لکھ کر دے، اسپیکر ایاز صادق
مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر تنخواہوں کی ادائیگی جلد نہ کی گئی تو وہ اسمبلی کے سامنے احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوں گے














