پاکستان تحریک انصاف نے وزیرِاعظم شہباز شریف کے قوم سے حالیہ خطاب اور کفایت شعاری کے اعلانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں ‘خانہ پُری’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل نئے بوجھ ڈال رہی ہے۔
پارٹی کے مرکزی شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت خود یہ اعتراف کر رہی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید مہنگائی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟
بیان میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی پہلے ہی تاریخی سطح تک پہنچ چکی تھی جسے 6 مارچ کو اچانک مزید بڑھا دیا گیا، جبکہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی تو کم از کم 21 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کم کر سکتی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق ایک طرف کفایت شعاری کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی اخراجات میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب آسٹریا کے شہر ویانا کے دورے کے لیے نئے طیارے کے ذریعے روانہ ہوئی ہیں جس کے استعمال کی لاگت تقریباً 12 سے 15 ہزار ڈالر فی گھنٹہ بتائی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات کفایت شعاری کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کتنے مؤثر، معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
تحریک انصاف نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال کوئی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ ہے، اس لیے دفاتر، اسکول، کالج اور جامعات بند کرنے سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا بلکہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے کے بعض دیگر ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم پاکستان میں ایسا ہونا گزشتہ چند برسوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ حکومت محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے اور عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر پالیسیاں متعارف کرائے۔














