سندھ کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں معاشی صورتحال اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے جامع کفایت شعاری اور ایندھن بچت پلان کی منظوری دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اہم اتحادی جماعت، سندھ حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے، وزیراعظم کی وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دہانی
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں تعلیم، خواتین کے حقوق، زراعت اور گورننس سمیت 23 نکاتی ایجنڈے پر اہم فیصلے کیے گئے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس میں کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔
ایندھن اور اخراجات میں کمی
کابینہ کے فیصلوں کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں 2 ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے جس سے تقریباً 960.55 ملین روپے کی بچت متوقع ہے۔ تاہم ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گی۔
مزید برآں سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں آئندہ 2 ماہ کے لیے کھڑی کر دی جائیں گی جبکہ افسران کو کار پولنگ کی ترغیب دی گئی ہے۔
صوبائی وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی نے اپریل، مئی اور جون کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران، جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے، کو 2 دن کی تنخواہ عطیہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
سرکاری اخراجات پر پابندیاں
کابینہ نے جاری مالی سال کی آخری سہ ماہی میں غیر ضروری اخراجات میں 20 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے 12 ارب روپے سے زائد کی بچت متوقع ہے۔
مزید پڑھیے: پی پی قیادت وفاقی وزرا اور گورنر ہاؤس کی سندھ حکومت کے خلاف سازشوں پر وفاق سے جواب طلب کرے، شرجیل میمن
جون 2026 تک نئی گاڑیوں اور سرکاری سامان کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی ہوگی۔ ناگزیر صورت میں صرف اکانومی کلاس میں سفر کی اجازت دی جائے گی۔
اسی طرح سرکاری دعوتوں اور تقاریب پر پابندی ہوگی اور سرکاری اجلاس زیادہ تر آن لائن منعقد کیے جائیں گے۔
کام کے اوقات اور تعلیمی اقدامات
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ضروری خدمات کے علاوہ 50 فیصد سرکاری عملہ باری باری گھر سے کام کرے گا جبکہ سرکاری دفاتر میں ہفتے میں چار روز کام ہوگا۔ البتہ بینک، صنعت اور زراعت کے شعبے اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔
تعلیمی اداروں کے حوالے سے اعلان کیا گیا کہ 16 سے 31 مارچ تک اسکولوں میں بہار کی چھٹیاں ہوں گی جبکہ کالجز اور یونیورسٹیاں اس عرصے کے دوران سو فیصد آن لائن کلاسز پر منتقل ہو جائیں گی۔
عوامی اقدامات اور نگرانی
شادی ہالز میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود کرنے اور ون ڈش کی پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح موٹرویز پر رفتار کی حد 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہائی ویز پر 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
ایندھن کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو سخت کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
دیگر اہم اصلاحات
کابینہ نے اسکولوں میں طلبہ کی حاضری کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کی منظوری دی۔
گندم کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے نجی تاجروں کو 8 ہزار روپے فی 100 کلو گرام کے حساب سے گندم جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
خواتین ہاریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز رولز 2026‘ کی منظوری دی گئی جس کے تحت خواتین کسانوں کو مساوی اجرت، زچگی کی سہولیات اور ہراسانی کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے 500 ملین روپے کا انڈوومنٹ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں 312 بستروں پر مشتمل حسن سلیمان میموریل اسپتال کے لیے فنڈز اور نرسنگ اسکول کے لیے زمین کی منظوری دی گئی۔
اقلیتوں کے حقوق کے لیے قومی کمیشن میں ڈاکٹر راکیش موٹیانی اور تشنامیتی پٹیل کے ناموں کی بھی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر کے گریڈنگ سسٹم نافذ کر دیا
وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ کابینہ کے ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔














