پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے کرنے کے لیے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے کیونکہ خلیج عرب میں جاری کشیدگی کے مختلف شعبوں پر اثرات کی مکمل تشخیص نہیں ہوسکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام یہ بات چیت آئندہ دنوں میں جاری رکھیں گے تاکہ معاملے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ مذاکرات 7 بلین ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی کے دوسرے جائزے کے لیے ہو رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی پر آئی ایم ایف کا خراج تحسین، پاکستان معاشی استحکام کے کتنا قریب؟
ایس ایل اے پر اتفاق نہیں ہوسکا کیونکہ خلیجی کشیدگی کے اقتصادی اثرات کا اندازہ مکمل نہیں کیا جا سکا، بشمول معاشی نمو، مہنگائی، ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے اقدامات، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، درآمدات میں اضافہ، برآمدات میں کمی اور ترسیلات زر کے۔
آئی ایم ایف کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کے اقتصادی منظرنامے، بین الاقوامی مالیاتی ضرورت اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات پر بھی غور کیا گیا۔ مذاکرات 25 فروری سے 11 مارچ تک کراچی، اسلام آباد اور ورچوئل طور پر ہوئے۔
آئی ایم ایف ٹیم کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ “مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، لیکن حالیہ عالمی حالات کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کی مزید تفصیلی جانچ باقی ہے۔ ای ایف ایف پروگرام کی عملداری اب تک حکومتی وعدوں کے مطابق رہی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف مشن کی کراچی آمد، مالیاتی توازن اور مانیٹری پالیسی کا جائزہ
مالیاتی استحکام، مہنگائی کے کنٹرول، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنے کلائمیٹ ریزیلینس کے اقدامات میں بھی قابل قدر پیش رفت کی ہے اور آر ایس ایف کے تحت اصلاحی اقدامات مکمل کیے ہیں۔














