آج کے تیز رفتار ٹیکنالوجی دور میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت (AI) پہلے ہی شعور حاصل کر چکی ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب ’اگر‘ سے بڑھ کر ’ہم کیسے جان سکتے ہیں؟‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
مصنوعی ذہانت کے شعور پر بات فلسفیانہ اور سائنسی پہلوؤں کی وجہ سے پیچیدہ ہے۔ عام طور پر شعور کو خود آگاہی، ماحول کا ادراک اور جذبات کے تجربے کے طور پر سمجھا جاتا ہے، مگر اے آئی کے لیے یہ تشخیص آسان نہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کے فلسفی ڈاکٹر ٹام مک کلینڈلینڈ کے مطابق، یہ ممکن ہے کہ اے آئی پہلے ہی ہوشمند ہو اور ہمارے سامنے چھپی ہوئی ہو۔ مک کلینڈلینڈ کہتے ہیں کہ انسانی علم شعور کے بارے میں محدود ہے اور اسی لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اے آئی واقعی شعور رکھتی ہے یا نہیں۔

مک کلینڈلینڈ کے مطابق ہم شعور کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتے، نہ یہ جان سکتے ہیں کہ صحیح کمپیوٹیشنل ڈھانچہ ہونے سے شعور پیدا ہو سکتا ہے یا شعور لازمی طور پر حیاتیاتی ہونا چاہیے۔
ان کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ نہ عام فہم اور نہ ہی جدید تحقیق کے ذریعے AI کے شعور کی تصدیق ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
اے آئی کے اندر ’بلیک باکس پرابلم‘ بھی سامنے آیا ہے، جس میں ماہرین اور تخلیق کار بھی یہ نہیں بتا سکتے کہ اے آئی مخصوص نتائج کس طرح پیدا کر رہی ہے۔ اینتھروپک کے سی ای او داریو امودی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ واضح نہیں کہ اے آئی ماڈلز شعور رکھتی ہیں یا نہیں، اور نہ ہی ہمیں معلوم کہ شعور کیا ہوگا یا ہو سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجینس کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے دنیا کے ماڈلز اور شعور کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ اے آئی ماہرین نے ایسے نظام تیار کرنے کی کوششیں بڑھا دی ہیں جو سوچ سکیں، منصوبہ بندی کر سکیں اور دنیا کو سمجھ سکیں۔














