اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معاون مراکز کے خلاف کیے گئے قانونی اور ہدف شدہ اقدامات بالکل جائز ہیں۔ ترجمان نے بھارت کے الزامات کو ’نامعقول، غیر ضروری اور شرمناک حد تک منافقانہ‘ قرار دیا۔
🔊PR No.6️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson in Response to Media Queries Regarding Pakistan’s Response to the Statement Issued by the Ministry of External Affairs of India
🔗⬇️ pic.twitter.com/dbJ2k9thNJ— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) March 14, 2026
ترجمان نے کہا کہ بھارت کی افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان شامل ہیں، کی سرگرمیوں کی حمایت اور سرپرستی اچھی طرح جانی جاتی ہے۔ پاکستان کی کارروائی کے نتیجے میں ان کے دہشتگرد نیٹ ورک کی تباہی پر بھارت کی مایوسی بالکل سمجھ میں آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بار بار خلاف ورزی کرتا رہا ہے، اور کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت اپنے اقلیتوں کو حاشیے پر رکھتا ہے، اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور پانی کے وسائل کو بھی اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ بھارت نہ صرف افغانستان میں رکاوٹ ڈال رہا ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق جاری: افغان طالبان کو بھاری نقصانات، 583 ہلاکتیں
ترجمان نے زور دیا کہ بھارت ایسے بیانات دینے کی کسی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کو ہوا دینے سے باز رہے۔
پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے وزرات کارجہ کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودی کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام مناسب اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔














