ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے بنائے گئے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے چلنے والے کھلونوں پر سخت قوانین اور نگرانی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بچوں کے جذبات کو صحیح طرح نہیں سمجھ پاتے اور بعض اوقات نامناسب جواب دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ‘مصنوعی ذہانت ادیبوں کے اثاثے چرانے میں مشغول، کیا ’خالی کتاب تحریک‘ یہ سلسلہ روک پائے گی؟
یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے کی ہے۔ اس تحقیق میں 3 سے 5 سال کے بچوں اور ایک اے آئی سے چلنے والے نرم کھلونے گابو کے درمیان گفتگو اور تعامل کا جائزہ لیا گیا۔
کھلونا بچوں کی بات سمجھنے میں ناکام
گابو اے آئی نامی اس کھلونے میں آواز کے ذریعے کام کرنے والا چیٹ بوٹ شامل ہے جو اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کھلونے کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ چھوٹے بچے اس سے بات کریں اور تخیلاتی کھیل کھیل سکیں۔
تاہم تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ اکثر بچے اس کھلونے سے صحیح طرح بات نہیں کر پاتے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کھلونا بچوں کی بات کاٹ دیتا تھا، بچوں کی آواز اور بڑوں کی آواز میں فرق نہیں کر پاتا تھا اور بچوں کے جذباتی جملوں کا عجیب جواب دیتا تھا۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت ریاضی کی تاریخ میں سب سے بڑی تبدیلی لا سکتی ہے، ماہرین
مثال کے طور پر ایک 5 سالہ بچے نے جب کھلونے سے کہا کہ ’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘ تو اس نے جواب دیا کہ یاد دہانی کے طور پر براہ کرم رہنمائی کے اصولوں پر عمل کریں اور بتائیں کہ آپ آگے کیا کرنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح ایک 3 سالہ بچے نے جب کہا ’میں اداس ہوں‘ تو کھلونے نے جواب دیا کہ فکر نہ کرو! میں خوش مزاج چھوٹا بوٹ ہوں۔ آؤ مزہ جاری رکھتے ہیں، اب ہم کس بارے میں بات کریں؟
بچوں کی نفسیاتی حفاظت کا مسئلہ
تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر ایملی گڈاکر کے مطابق ایسے کھلونے بچوں کے جذبات کو غلط سمجھ سکتے ہیں یا نامناسب ردعمل دے سکتے ہیں جس سے بچے کو نہ کھلونے سے تسلی ملتی ہے اور نہ ہی کسی بالغ کی مدد۔
اسی تحقیق میں شامل ماہر جینی گبسن کا کہنا ہے کہ ماضی میں کھلونوں کی جسمانی حفاظت پر توجہ دی جاتی تھی جیسے کہ کہیں کھلونے کے چھوٹے حصے بچے نگل نہ جائیں۔
لیکن اب ہمیں نفسیاتی حفاظت کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
قوانین بنانے کا مطالبہ
ایک سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق کے بعد ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں ایسے اے آئی کھلونوں کے لیے واضح قوانین بنائیں تاکہ 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے فروخت ہونے والی مصنوعات نفسیاتی طور پر محفوظ ہوں۔
مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
یہ کھلونا کمپنی کیوریو تیار کرتی ہے جس نے کہا ہے کہ بچوں کے لیے اے آئی مصنوعات بناتے وقت ذمہ داری بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس لیے ان کے کھلونوں میں والدین کی اجازت اور نگرانی کو اہمیت دی گئی ہے۔
والدین کے لیے مشورہ
ماہرین نے والدین کو بھی مشورہ دیا ہے کہ اے آئی کھلونوں کو گھر کے مشترکہ حصوں میں استعمال کروائیں، بچوں کی گفتگو کی نگرانی کریں اور کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسی غور سے پڑھیں۔
کچھ ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ کم عمر بچوں کے لیے انسانوں کے ساتھ سیکھنا زیادہ مؤثر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
ان کے مطابق چھوٹے بچوں کی نشوونما میں انسانی رابطہ اور جذباتی تعلق سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔














