وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خرم دستگیر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو حقیقی معنوں میں ایک ایسا بنیادی ریلیف بجٹ دیں جس سے عوام کو فائدہ ہو اور جو لگے بندھے افسر شاہی فارمولوں سے ہٹ کر ہو اور اس کے عوام کو حقیقی معنوں کے ریلیف کے بارے میں ابلاغ بھی کریں۔

وی نیوز کے پروگرام وی نیوز ایکسکلوسیو میں اینکر پرسن عمار مسعود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب کے سامنے چیلنج افسرشاہی اور ٹیکس کے نظام کی بیڑیاں ہیں لیکن عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ موجودہ سختیوں کے بعد ریلیف آنے والا ہے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ سرکار کی مٹھی میں جو معیشت کو بند کیا ہوا یا گلا دبایا ہوا ہے اگر یہ کھولیں گے تو عوام کو سانس آئے گی۔

مزید پڑھیں: دنیا میں نئی صف بندی کی ضرورت، چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کو روکا نہیں جاسکتا، چینی صدر شی جن پنگ

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی رہائی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں عدالت نے سزا دی ہے اور وہ یہ سزا بھگت کر باہر آئیں کیونکہ انہوں نے امانت میں خیانت کی اور عوام کے 60 ارب روپے میں خیانت کرکے ایک شخص کے حوالے کیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا چاہیے اور بہتر طرز حکمرانی میں مقابلہ کرنا چاہیئے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ ملٹری آپریشن ہی کامیاب ہوئے ہیں۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ دنیا میں گزشتہ ایک ماہ کے واقعات نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور اب عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ بیٹھے تو فیصلوں کا شکار ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دراصل دنیا ایک مہینے میں نہیں بدلی بلکہ ایسے رجحانات پہلے سے موجود تھے جو اب واضح ہوگئے ہیں۔

ان کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جو عالمی نظام تشکیل دیا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ بڑی جنگوں کو روکا جائے اور عالمی سیاست، تجارت اور بین الاقوامی قوانین کے ذریعے دنیا کو منظم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: مارچ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات دستیاب ہیں، وزیر خزانہ نے نوید سنا دی

خرم دستگیر خان کے مطابق اسی پس منظر میں اقوام متحدہ جیسے ادارے وجود میں آئے اور عالمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مختلف نظام تشکیل دیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرد جنگ کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی اور فکری مقابلہ بھی جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس دور میں جمہوریت، انسانی حقوق اور سرمایہ دارانہ نظام کو کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ امریکا نے کئی مواقع پر خود بھی اس نظام کی خلاف ورزی کی، جیسے کوریا، ویتنام، کمبوڈیا، عراق اور افغانستان کی جنگیں، لیکن اس کے باوجود ایک عالمی نظام موجود تھا جس کے تحت یہ اصول تسلیم کیا جاتا تھا کہ کسی ملک کی سرحدوں کو جنگ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جائےگا۔

خرم دستگیر خان کے مطابق حالیہ ایران جنگ نے اس عالمی نظام کو قریباً ختم کردیا ہے۔ ان کے بقول اب بین الاقوامی قانون کی حیثیت کمزور ہوچکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا پہلی جنگِ عظیم سے پہلے والے دور کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی سے فیصلے کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی عالمی طاقت کے طور پر برتری میں بتدریج کمی آرہی ہے، تاہم اس عمل میں وقت لگے گا کیونکہ امریکا کے پاس اب بھی ٹیکنالوجی، تعلیمی اداروں اور تحقیق کا مضبوط نظام موجود ہے۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ اس کے مقابلے میں چین تیزی سے ابھر رہا ہے اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں امریکا کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق چین نے تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی میں بہت سرمایہ کاری کی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے شعبوں میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی چین تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کم قیمت ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی مقابلے میں نمایاں ہو رہا ہے۔

چین امریکا کے برعکس اپنی طاقت کو عالمی سطح پر فوجی انداز میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا

ان کا کہنا تھا کہ چین امریکا کے برعکس اپنی طاقت کو عالمی سطح پر فوجی انداز میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ چین دنیا بھر میں فوجی اڈے قائم کرنے یا طیارہ بردار بیڑوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی پالیسی پر عمل نہیں کررہا، حالانکہ اس کے پاس اس کی صلاحیت موجود ہے۔

خرم دستگیر خان نے پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کا ایٹمی دفاعی نظام ہے جو کئی دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایٹمی نظام نے ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت بھی ایک بڑی طاقت ہے، تاہم ملک کی سب سے بڑی کمزوری معیشت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے عالمی سطح پر آنے والی معاشی تبدیلیوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا اور اندرونی سیاسی کشمکش کی وجہ سے ترقی کے کئی مواقع ضائع ہو گئے۔

خرم دستگیر خان نے کہاکہ جغرافیائی طور پر پاکستان کی پوزیشن اہم ہونے کے باوجود بعض اوقات یہ ایک چیلنج بھی بن جاتی ہے کیونکہ بڑی طاقتوں کے مفادات اس خطے میں ٹکراتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد خلیجی ممالک کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے اسی تناظر میں پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرے

خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ملک کو دہشتگردی اور معاشی مسائل جیسے اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق پاکستان اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کررہا ہے اور اگر دہشتگردی کا سلسلہ نہ رکا تو یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی پالیسی کا مقصد افغانستان میں مداخلت نہیں بلکہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔

خرم دستگیر خان نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت دنیا کے سامنے واضح ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک بڑے حریف کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری ساکھ میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ جدید فضائی جنگ میں پاکستان کی کارکردگی کو دنیا بھر میں سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور ماہرین اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں بن رہی ہیں

خرم دستگیر خان نے کہاکہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں بن رہی ہیں اور ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہم عالمی فورمز پر موجود رہے تاکہ اپنے مفادات کا دفاع کر سکے۔

ان کے مطابق اگر کوئی ملک عالمی فیصلوں کی میز پر موجود نہ ہو تو پھر وہ فیصلوں کا شکار بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایران پر حملے کے بعد عالمی امن کے مختلف فورمز کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ اگر عالمی قوانین اور ادارے مؤثر نہ رہیں تو دنیا ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف جا سکتی ہے۔

ملکی سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

ٹرمپ کا رونا دھونا شروع، پہلے بھڑکیں اب منتیں، نیتن یاہو ہلاک؟ جنید صفدر کا ہنی مون

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا