وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کی تنظیم نو کی منظوری دے دی ہے، اس اقدام کا مقصد ملکی زرعی تحقیق کو مضبوط بنانا اور برآمدات و خوراک کی حفاظت کے اہداف کے مطابق لانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستانی چاول، کپاس اور دیگر فصلیں اپنے اختتام پر ہیں؟
اسلام آباد میں ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ایک مکمل منصوبہ تیار کرے گی جس میں نئے ڈھانچے کے نفاذ کا شیڈول بھی شامل ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی تحقیق ملکی ترقی اور خوراک کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
نئے ڈھانچے کے تحت قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کو پانچ شعبوں میں اعلیٰ تحقیقی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان مراکز میں جدید فصلوں اور باغات کی تحقیق، مویشیوں کی نسلوں اور صحت کے معیار میں بہتری، زمین، پانی اور توانائی کے لیے موسمیاتی حل، اور زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کام کیا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزراتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور PARC کے امور پر اجلاس
اجلاس میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کو PARC کو زرعی تحقیق کا جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال ادارہ بنانے کے حوالے سے… pic.twitter.com/ICbvAHJvUn
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) March 17, 2026
مراکز کی قیادت چینی زرعی ماہرین کریں گے اور سائنسی مشاورتی کمیٹی کے نصف ارکان بھی بین الاقوامی ماہرین ہوں گے۔ اس کے علاوہ چار علاقائی تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ مختلف ماحولیاتی حالات میں تحقیق کی جاسکے۔ کراچی میں ٹراپیکل زرعی مرکز، کوئٹہ میں خشک علاقوں کے لیے مرکز، گلگت بلتستان میں پہاڑی باغات اور مچھلیوں کی تحقیق، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خشک فصلوں اور قدرتی وسائل پر تحقیق ہوگی۔
منصوبے کے چار مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ 2026 میں ادارے کی تنظیم اور حکومتی ڈھانچہ بنانا، دوسرا مرحلہ 2027-28 میں پانچ مراکز کے آغاز اور پنجاب و سندھ میں تجرباتی کام، تیسرا مرحلہ 2028-30 میں تمام صوبوں میں مکمل نفاذ اور جدید نظام قائم کرنا، اور چوتھا مرحلہ 2030 سے مسلسل عالمی معیار، بین الاقوامی جائزے اور علاقائی قیادت کے لیے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، 13ویں 5 سالہ ترقیاتی منصوبے کی اصولی منظوری
منصوبے کے مطابق نجی شعبہ بھی تحقیق میں حصہ ڈالے گا اور 25 فیصد بجٹ نجی سرمایہ کاری سے پورا ہوگا۔ وفاقی گرانٹ سالانہ دو ارب روپے ہوگی جبکہ مستقل فنڈ کے لیے دس ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تحقیق اور ترقی کے بجٹ کو زرعی پیداوار کے ایک فیصد تک بڑھایا جائے گا تاکہ بین الاقوامی معیار حاصل ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ نئے ڈھانچے سے پاکستان میں زرعی تحقیق میں جدت آئے گی، خوراک کی حفاظت مضبوط ہوگی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔














