سائنس، جو پہلے انسانی تجربات اور قیاسات کی بنیاد پر متعین ہوتی تھی، اب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بدل رہی ہے تاہم واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر پروفیسر میسُت چِچیک اور ان کی ٹیم کی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سائنسی مواد لکھ رہا ہے لیکن اکثر درست نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے
تحقیق میں چیٹ جی پی ٹی کے ورژنز 3.5 اور 5 mini کو 700 سائنسی قیاسات کے ساتھ پرکھا گیا اور ہر سوال کو 10 بار دہرایا گیا تاکہ مستقل مزاجی کو جانچا جا سکے۔
ابتدائی طور پر اے آئی کی درستگی 80 فیصد اور مستقل مزاجی 73 فیصد دکھائی دی لیکن جب تصادفی اندازہ لگانے کے ساتھ جانچا گیا تو حقیقی اعتماد صرف 60 فیصد رہا جو کمزور گریڈ کے برابر ہے۔
جھوٹے بیانات کی پہچان میں ناکامی
چیٹ جی پی ٹی جھوٹے بیانات کو صحیح طریقے سے صرف 16.4 فیصد کیسز میں شناخت کر سکا۔ محققین نے روانی کی فریب کاری کی بات کی یعنی اے آئی کی پرکشش زبان دماغ کو حقیقت سمجھنے پر مجبور کر سکتی ہے حالانکہ یہ معلومات درست نہ بھی ہوں۔
محققین کا مؤقف
پروفیسر میسُت چِچیک کا کہنا ہے کہ اے آئی ابھی حقیقی دنیا کی معلومات اور درست سائنسی سوچ پیدا کرنے سے بہت دور ہے۔ یہ صرف یاد شدہ نمونوں پر انحصار کرتا ہے حقیقی استدلال یا علمی فہم پر نہیں۔
مزید پڑھیے: بیت الخلا سے دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد، چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے خوفناک طریقے پوچھنے کا انکشاف
انہوں نے سائنسدانوں سے اپیل کی ہے کہ اے آئی کا استعمال محتاط طریقے سے کریں اور ہر معلومات کی تصدیق لازمی کریں۔
محققین کے مطابق اے آئی سے علمی مواد پیدا کرنے کے لیے بہترین رویہ شکوک و شبہات کے ساتھ اس کی جانچ کرنا ہے اور سسٹمز کی مزید تربیت ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: طبی مشورے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر مکمل انحصار نہ کریں، نئی تحقیق میں احتیاط کا مشورہ
پروفیسر میسُت چِچیک نے کہا کہ میں اے آئی کے خلاف نہیں ہوں میں خود بھی استعمال کر رہا ہوں لیکن محتاط رہنا ضروری ہے۔














