اس عید پر کشمیری چوڑیاں اتنی مقبول کیوں ہو رہی ہیں اور ان کی قیمت کیا ہے؟

جمعہ 20 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عید الفطر کے موقع پر جہاں لباس اور جوتوں کے نت نئے ڈیزائن توجہ کا مرکز بنتے ہیں، وہیں اس بار پاکستان بھر میں کشمیری چوڑیوں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ روایتی شیشے اور دھاتی چوڑیوں کے درمیان ان رنگ برنگی اور نفیس فنکاری سے سجی چوڑیوں نے فیشن کی دنیا میں اپنی ایک منفرد جگہ بنا لی ہے۔

کشمیری چوڑیاں محض زیور نہیں بلکہ فن کا ایک شاہکار ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خاصیت ان پر کی جانے والی پیپر ماشے اور باریک دستکاری ہے۔ ان میں گہرے اور شوخ رنگوں جیسے فیروزی، سرخ، سنہرا اور زمردی کا استعمال کیا جاتا ہے، جو عید کے ملبوسات کے ساتھ خوب جچتے ہیں۔

پاکستانی مارکیٹوں میں اس بار ان چوڑیوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ کے ایک تاجر محمد افضال کا کہنا ہے کہ موجودہ فیشن میں روایتی لک کو زیادہ پسند کیا جارہا ہے، کشمیری چوڑیاں سادہ سے سادہ لباس کو بھی ایک شاہانہ لک دے دیتی ہیں۔ شیشے کی چوڑیاں جلدی ٹوٹ جاتی ہیں جبکہ کشمیری چوڑیاں زیادہ پائیدار اور آرام دہ ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیری چوڑی نیپال سے نکلی، پھر بھارت میں اس کا نام کشمیری چوڑی رکھا گیا اور پاکستان میں یہ چوڑی حیدر سندھ میں بنتی ہے۔ اس کی قیمت سے متعلق تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ 600 روپے سے شروع ہو کر 2000 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔

انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر فیشن بلاگرز کی جانب سے کشمیری جیولری کو پروموٹ کیے جانے کے بعد نوجوان لڑکیوں میں ان کا کریز بڑھ گیا ہے۔ ان چوڑیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف بچیوں یا نوجوان لڑکیوں تک محدود نہیں رہیں۔

 انہیں مغربی ملبوسات (جینز اور ٹاپ) کے ساتھ بھی ایک فیوژن لک کے طور پر پہنا جا رہا ہے۔ خواتین بھاری کام والے جوڑوں کے ساتھ بڑے سائز کے کشمیری کڑے پہن کر اپنی شخصیت کو مزید پروقار بنا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp