امریکی وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز ایک مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی پالیسی جاری کی، جس کا مقصد ریاستی قوانین کو پہلے سے قابو میں رکھنا، بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور کمیونٹیز کو زیادہ توانائی کے اخراجات سے بچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگان نے امریکی اے آئی کمپنی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیدیا
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یہ بھی چاہتی ہے کہ پورے ملک میں ایک یکساں قانونی فریم ورک ہو بجائے اس کے کہ ہر ریاست اپنے قوانین بنائے۔
کچھ ریاستوں کو وارننگ
دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ان ریاستوں کو وفاقی براڈبینڈ فنڈنگ نہیں دیں گے جن کے اے آئی قوانین امریکی حکومت کے مطابق امریکا کی ٹیکنالوجی میں بالادستی کو روک رہے ہوں۔
ٹیک انڈسٹری اور اے آئی
حالیہ برسوں میں اے آئی صنعت ٹیک سیکٹر کے لیے زبردست منافع کا ذریعہ بنی ہے جس نے چپ بنانے والی کمپنی این ویڈیا کو دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بنا دیا۔
دوسری جانب میٹا، امیزون، الفابیٹ اور مائیکروسوفٹ جیسے ٹیک بڑے ادارے اس ابھرتے ہوئے شعبے میں اربوں ڈالر لگا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس فریم ورک کی اہم تفصیلات
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر اس فریم ورک کو قانون میں بدلنے کے لیے کام کرے گا۔
مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ زیرتعمیر سڑک کا جائزہ لینے مظفرآباد پہنچ گئے، آئی اے جنریٹڈ ویڈیو وائرل
مائیکل کراٹسوس، ٹرمپ کے سائنس اور ٹیکنالوجی مشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک قومی اے آئی فریم ورک کی ضرورت ہے نہ کہ 50 ریاستوں کا پیچیدہ نظام۔
انہوں نے کہا کہ اس کا اہم حصہ بچوں کے تحفظ کے لیے دو طرفہ سیاسی اتفاق رائے پر توجہ دینا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی سمجھی جانے والی خاتون انفلوئنسر دراصل مصنوعی ذہانت کا تیار کردہ کردار نکلی
پالیسی میں بچوں کے اکاؤنٹس اور ڈیوائسز پر والدین کا کنٹرول، جنسی استحصال اور خود کو نقصان پہنچانے کے امکانات کے خلاف حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
مزید اقدامات اور مقاصد
کانگریس سے کہا گیا ہے کہ وہ اجازت ناموں کو آسان بنائے تاکہ بڑے توانائی استعمال کرنے والے ڈیٹا سینٹر اپنی بجلی خود پیدا کر سکیں۔
وفاقی حکومت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات تاکہ اے آئی سے پیدا ہونے والے فراڈ اور قومی سلامتی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
اختراعی رکاوٹیں دور کرنا، کاروباری شعبوں میں اے آئی کے نفاذ کو تیز کرنا، اور اعلیٰ معیار کے اے آئی سسٹمز کی تعمیر آسان بنانا تاکہ عالمی سطح پر امریکا کی اے آئی بالادستی یقینی ہو۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کا ’اے آئی معیشت‘ کا اعلان، توانائی و ٹیکنالوجی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
فریم ورک میں دانشورانہ ملکیت کے حقوق، آزادی اظہار، سینسرشپ سے بچاؤ اور ایک اے آئی ماہر ورک فورس کی ترقی کے لیے تعلیم شامل ہے۔














