اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے مجوزہ خاکے مزید بہتری اور تبدیلیوں کے لیے واپس بھجوا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ کیسے ہوں گے، عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
کراچی ایوانِ تجارت و صنعت میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک پہلے ہی نئے نوٹوں کے خاکے منظوری کے لیے حکومت کو بھیج چکا تھا، تاہم حکومت نے آخری منظوری سے پہلے بعض تبدیلیوں اور مزید بہتری کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک نئے خاکوں پر دوبارہ کام کر رہا ہے جبکہ نئے کرنسی نوٹوں کی آخری منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک نے جدید حفاظتی اور ظاہری خصوصیات کے حامل نئے نوٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا تاکہ ملکی زر کے نظام کو جدید انداز میں استوار کیا جا سکے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی معاشی حالت میں بہتری کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق 3 برس پہلے کے مقابلے میں معیشت میں استحکام آیا ہے، اگرچہ ملک کو اب بھی کئی معاشی دشواریوں کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں:عید پر بینکوں سے نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟
جمیل احمد نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جھڑپوں کے باعث بیرونی معاشی دباؤ برقرار ہیں، تاہم درآمدی اجازت ناموں کے اجرا کی صورتِحال 2023 کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ماہانہ درآمدات اس وقت 5 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ 3 برس قبل یہ حجم قریباً 3 ارب ڈالر ماہانہ تھا۔














