بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے روہنگیا مہاجرین کی میانمار واپسی کے لیے عالمی برادری سے مزید مؤثر تعاون کی اپیل کرتے ہوئے اس معاملے کو حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں جیٹ فیول کی قیمتیں برقرار، 73 فیصد اضافے کا فیصلہ واپس
انہوں نے ہفتے کی صبح کوکس بازار کے علاقے پیکوا کی مرکزی جامع مسجد میں نماز عید ادا کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت روہنگیا بحران کے پرامن اور دیرپا حل کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ روہنگیا مہاجرین کی واپسی ہمارے لیے ایک نہایت اہم اور مسلسل جاری مسئلہ ہے اور ہم اس کے پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کے فعال تعاون کے خواہاں ہیں۔
اقوام متحدہ سے مؤثر کردار ادا کرنے کی توقع
صلاح الدین احمد نے بتایا کہ بنگلہ دیش مختلف عالمی فورمز پر اس مسئلے کو مسلسل اٹھا رہا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی شراکت دار بے گھر افراد کی اپنے وطن واپسی کے لیے مزید فعال کردار ادا کریں گے۔
قومی ترقی اور خوشحالی کی دعا
عید کے موقعے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے ملک میں امن، استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کی اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ قومی ترقی کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔
سائبر جرائم عالمی چیلنج بن چکے ہیں
وزیر داخلہ نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے فراڈ اور سائبر جرائم پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث یہ جرائم کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: برطانیہ کا بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے لیے امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
انہوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے حالیہ عالمی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک نے سرحد پار مالیاتی اور سائبر جرائم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، معاہدوں اور مربوط اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ جرائم سرحدوں کو نہیں مانتے، اس لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے برطانیہ سے پولیس اصلاحات اور روہنگیا مسئلے میں تعاون کی درخواست کردی
وزیرداخلہ نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے نہ صرف عالمی فراڈ کی روک تھام بلکہ روہنگیا بحران کے حل کے لیے بھی مزید مؤثر اقدامات کریں گے۔













