کیا تحریک انصاف پاکستان کی فالٹ لائن بن چکی ہے؟

منگل 24 مارچ 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک انصاف ابھی تک ایک سیاسی جماعت ہی ہے یا یہ ریاست کی ایک فالٹ لائن بن چکی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر خود تحریک انصاف کو ایک آخری بار غور کر لینا چاہیے کیونکہ کوئی بھی نیشن اسٹیٹ کسی بھی فالٹ لائن کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر پاتی۔ ایک وقت آتا ہے ریاست اپنی  فالٹ لائن میں سیسہ ڈال کراسے بھر دیتی ہے اورپھر کوئی سوراخ باقی نہیں رہتا۔

عدم اعتماد سے پہلے بھی، سیاسی بصیرت کے معاملے میں تحریک انصاف کا ہاتھ تنگ ہی تھا لیکن عدم اعتماد کے بعد تو اس نے حد ہی کرد ی ہے۔ شاید ہی کوئی فیصلہ ایسا ہو جس میں ایک دو پاؤ سیاسی بصیرت تلاش کی جا سکے۔ ایک عجب سا ہیجان برپا کر دیا گیا ہے اور جوش جنوں میں ایسا اودھم مچایا گیا ہے کہ بات  حزب اختلاف بمقابلہ حکومت نہیں رہی، یہ حزب اختلاف بمقابلہ ریاست بنتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

 جب اور جہاں ریاست مشکل موڑ پر کھڑی ہوتی ہے، تحریک انصاف خیر خواہی کی بجائے دہائی دینے لگتی ہے کہ موقع، موقع  موقع۔  اور پھر یہ ریاست کا بازو مروڑنا شروع کر دیتی ہے ۔ جو موقف ریاست اختیار کرے یہ اس کے خلاف دوسرا موقف اختیار کر لیتی ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس رویے کا ریاست کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔  یہ زبان حال و قال سے ابھی تک وہیں کھڑی ہے کہ خان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

اس کا خیال ہے کہ یہ اس کی بہترین پالیسی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک احمقانہ پالیسی ہےاوراس کے اختتام پر منزل نہیں، اندھی کھائی ہے۔

تازہ ترین واقعے کو دیکھ لیجیے۔ شیعہ علما کی فیلڈ مارشل سے ملاقات ہوتی ہے۔  یہ ملاقات انتہائی نازک وقت پر ہوتی ہے۔ خطے کی سلامتی داؤ پر لگی ہے۔  ذرا سی غلطی بہت کچھ بھسم کر سکتی ہے۔  ملاقات کے بعد 3،4 دن خاموشی رہتی ہےاور پھر اچانک ایک یلغار شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے فیلڈ مارشل کے خلاف مذہبی جذبات کو ویپنائز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ تجزیہ کاروں کی انگلیاں تحریک انصاف کی طرف اٹھتی ہیں کیونکہ اس بیانیے کو فروغ دینے والی کلیدی شخصیات  تحریک انصاف کی حلیف ہیں اور راجہ ناصرعباس صاحب تحریک انصاف ہی کی وجہ سے  سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز ہیں۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ کیا  اس موقع پر فیلڈ مارشل کے خلاف اس مذہبی بیانیے کو اسٹریٹجائز کرنے والے بھی وہی ہیں جو تحریک انصاف کی پالیسیوں کو کہیں باہر بیٹھ کر اسٹریٹجائز کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: بچوں کو بندوق سے بچائیں

یہ گویا کم تھا کہ رہی سہی کسر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے سائبر ٹروپس پوری کر رہے ہیں۔ پاکستانی ریاست کو ولن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دیرینہ دوست ممالک کے حوالے سے بد ترین غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ شیعہ سنی تفریق کو ہوا دی جا رہی ہے۔  کسی کو یزید کہا جا رہا ہے تو کسی کو ذلت کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان سفارتی سطح پر شاندار کردار کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی  ایران سمیت سب تعریف کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس نے کیا حماقت کر دی ہے۔ یہ حماقت 9 مئی سے کم سنگین نہیں ہے۔ یہ وقت بہت نازک ہے۔ پاکستان ایران  اور سعودی عرب  میں کسی تصادم کو ٹالنے کے لیے آخری حد تک کوشاں ہے۔ ایک چنگاری بھی آتش فشاں بن سکتی ہے۔ محسوس یہ ہورہا ہے کہ تحریک انصاف نےاس چنگاری کو مذہبی منافرت کے الاؤ میں بد لنے کی کوشش کی ہے۔ یہ وقت گزر جائے گا لیکن یہ حرکت ریاست کی یادداشت میں محفوظ ہو چکی ہو گی۔ ا س کے جب نتائج آئیں گے تو جن جن کا ابرار الحق صاحب کے ساتھ مل کر ’کپتان خان دے جلسے اچ نچنے نوں دل کردا‘ تھا وہ یہ شوقِ رقص بھول جائیں گے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ریاست کا بازو مروڑا گیا ہو۔ یہ کام ایک تسلسل سے ہو رہا ہے۔ پہلے احتجاج  اور ہیجان کا سلسلہ تھا جو تمنے میں نہیں آ رہا تھا۔ جب جب کوئی مہمان پاکستان آتا تھا، ملک میں افراتفری پھیلا دی جاتی تھی۔ معاشی حالات خراب ہوئے تو انہوں نے اوورسیز سے کہنا شروع کر دیا ملک میں پیسے نہ بھیجیں، آئی ایم ایف سے معاملات طے ہونے لگے تو انہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھ مارا کہ پاکستان سے معاملہ نہ کیا جائے۔ 9 مئی اس  سوچ کا نکتہ عروج تھا۔ لیکن یہ واردات 9 مئی کے بعد بھی تھمی نہیں ۔ یہ جاری ہے۔

بھارت سے جنگ ہوئی تو ان کےسوشل میڈیا کے وابستگان اپنی ریاست کو سیننگووں پر لے کر بیٹھ گئے۔ افغانستان سے تناؤ پیدا ہوا تو انہوں نے دہشتگردوں کی بجائے پاکستان پر فرد جرم عائد کرنا شروع کر دی حالانکہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ الگوردھم کے گندےاور مشکوک کھیل میں ان کے  وابستگان اور ہمدرد عناصر کے پیجز سے ریاست اور افواج  کے خلاف وہ زہر اگلا گیا کہ کسی دشمن نے بھی کب اگلا ہو گا۔

مزید پڑھیں: بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان جہاں کھڑا ہوتا ہے، تحریک انصاف دوسری سمت میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ پاکستان جہاں مشکل کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، یہ اسے  مشکل میں دیکھ کر رجز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں: موقع موقع موقع۔

 اس رویے سے اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف ابھی تک ایک سیاسی جماعت ہی ہے یا ایک فالٹ لائن بنتی جا رہی ہے۔ تحریک انصااف کو اس سوال پر ایک آخری بار غور کر لینا چاہیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp