1976 میں قائم ہونے والی اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑتے ہوئے ایک خاموش مگر طاقتور ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 5G سروسز کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
پسماندہ علاقوں سے جدید ٹیکنالوجی تک سفر
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، جہاں 4G دیگر علاقوں کے مقابلے میں تاخیر سے پہنچا، اب پاکستان کے پہلے خطوں میں شامل ہونے جا رہے ہیں جہاں 5G خدمات فراہم کی جائیں گی۔
اس منصوبے کے تحت سات جدید 5G ٹاورز نصب کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے تعلیم، صحت، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں تیز رفتار ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
جون 2026 تک تکمیل کا ہدف
یہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد خطے کے عوام اور کاروباری حلقوں کو عالمی معیار کی جدید رابطہ سہولیات میسر ہوں گی۔
ایس سی او نہ صرف ان دور دراز علاقوں کو قومی دھارے سے جوڑ رہا ہے بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو بھی مستحکم بنا رہا ہے۔
ترقی کی نئی جہت
پہاڑوں کی بلندی اب صرف جغرافیہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایس سی او 5G کے ذریعے ترقی کو بھی انہی بلندیوں تک لے جایا جا رہا ہے۔
جہاں کبھی رابطہ مشکل تھا، آج ڈیجیٹل رفتار نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 5G کا آغاز ایک روشن اور جدید مستقبل کی علامت ہے، جہاں ٹیکنالوجی ترقی کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔
تعلیم، صحت، سیاحت اور تجارت اب ایک کلک کی دوری پر ہیں، اور ایس سی او 5G کے ذریعے شمالی علاقوں کو ایک مضبوط ڈیجیٹل طاقت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔













