بچپن سے سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا خاتون نے گوگل اور میٹا کے خلاف مقدمہ جیت لیا

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں سوشل میڈیا کی عادت سے متعلق ایک اہم مقدمے میں جیوری نے بڑی ٹیک کمپنیوں Meta اور Google کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 30 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد ایسے ہزاروں مزید مقدمات پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

امریکی شہر لاس اینجلس میں ایک اہم اور تاریخی مقدمے میں جیوری نے الفابیٹ انکارپوریشن کی ذیلی کمپنی Google اور Meta کو سوشل میڈیا کی لت کے کیس میں 30 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

یہ مقدمہ ایک 20 سالہ خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس کا مؤقف تھا کہ وہ کم عمری میں یوٹیوب اور انسٹاگرام کی لت میں مبتلا ہو گئی تھی۔

جیوری نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں کمپنیوں نے اپنی ایپس کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جو صارفین کی توجہ کو غیر معمولی حد تک اپنی طرف کھینچتا ہے، اور انہوں نے ان کے ممکنہ نقصانات سے متعلق مناسب انتباہ بھی فراہم نہیں کیا۔

مدعی کے وکیل نے فیصلے کو ’پوری انڈسٹری کے لیے احتساب کا آغاز‘ قرار دیا، جبکہ میٹا نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔

 مقدمے کی نوعیت اور دیگر کمپنیاں

اس مقدمے میں توجہ سوشل میڈیا مواد کے بجائے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن پر مرکوز رہی، جس کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے ذمہ داری سے بچنا مشکل ہو گیا۔

مقدمے میں Snap Inc. اور ٹک ٹاک بھی شامل تھے، تاہم انہوں نے مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی مدعی سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔

 بڑھتی ہوئی تنقید اور قانونی پیش رفت

گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اب یہ بحث عدالتوں اور ریاستی حکومتوں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ امریکی کانگریس اب تک سوشل میڈیا کے جامع قوانین منظور کرنے میں ناکام رہا ہے۔

گزشتہ سال کم از کم 20 امریکی ریاستوں نے سوشل میڈیا کے استعمال اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین متعارف کروائے، جن میں اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندیاں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے عمر کی تصدیق لازمی قرار دینا شامل ہے۔

 آئندہ مقدمات اور قانونی چیلنجز

ٹیک کمپنیوں کی حمایت یافتہ تنظیم نیٹ چوائس عدالت میں عمر کی تصدیق کے قوانین کو چیلنج کر رہی ہے۔

اسی نوعیت کا ایک اور بڑا مقدمہ، جو کئی ریاستوں اور اسکول ڈسٹرکٹس کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، رواں موسمِ گرما میں آک لینڈ کی وفاقی عدالت میں سنا جائے گا۔

مزید برآں، جولائی میں لاس اینجلس میں ایک اور مقدمہ شروع ہوگا، جس میں انسٹاگرام،  یوٹیوب، ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ شامل ہوں گے۔

 ایک اور اہم فیصلہ

دوسری جانب ریاست نیو میکسیکو میں بھی جیوری نے میٹا کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ کمپنی نے صارفین کو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی حفاظت سے متعلق گمراہ کیا اور ان پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے میں ناکام رہی۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے بعد نہ صرف مزید مقدمات سامنے آئیں گے بلکہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے ضابطہ کار پر بھی بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک بھر میں 1153 عدالتیں ججز سے محروم، لاکھوں مقدمات التوا کا شکار

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

اسرائیل نے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تمام ارکان کو رہا کردیے

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی سمندروں سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اسٹیل سے زیادہ مضبوط ہے، مریم نواز

ویڈیو

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی کا جشن، پاکستانی قیادت کا سی پیک اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر زور

دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟