ایران کے سعودی عرب پر حملے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہیں، علما کا مؤقف

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ذمہ دارانہ سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے فروغ اور بحران کے پرامن حل کے لیے دانشمندانہ اقدامات کیے ہیں، جو علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی حملوں پر خطے میں تشویش، پاکستان کی سفارتی کاوشوں پر سعودی عرب کی تعریف

سعودی سفیر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ خطے میں حالیہ ایرانی حملے، جو مملکت سعودی عرب اور دیگر خلیجی برادر ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں، نہایت تشویشناک ہیں اور یہ خودمختار ریاستوں کے خلاف بلاجواز جارحیت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہر اشرفی نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ عرب ممالک ہمارے کہنے پر صبر کر رہے ہیں اور اُن کے صبر کی تحسین ہونی چاہیے۔ ایران پر حملے سعودی عرب کی جانب سے نہیں ہو رہے اور سعودی عرب جہاں تمام مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے مقدس مقام ہے۔ اُس کی سالمیت اگر خطرے میں پڑتی ہے تو اِس پر تمام مسلمان متفکر ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو مل کر مسلم قیادت سے بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔

مولانا طاہر اشرفی

ممتاز عالمِ دین اور مذہبی اسکالر علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہر قسم کے حملوں کی یکساں مذمت ہونی چاہیے، خواہ وہ ایران پر ہوں یا دیگر مسلم ممالک کو نشانہ بنایا جائے، اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملے قابلِ مذمت ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے دیگر مسلم ممالک، بالخصوص سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کا ہدف اسرائیل ہو تو مسلم دنیا کے عوام اور حکمران اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تاہم مسلم ممالک کے اندرونی انفراسٹرکچر، جیسے آئل ریفائنریز پر حملے امت کے اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی بھی بھرپور مذمت ہونی چاہیے۔

علامہ ابتسام الٰہی ظہیر

علامہ ابتسام نے بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے سفارت خانے پر حملہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنایا جائے تو یہ ایک بڑا عالمی تنازع بن سکتا ہے اور اس کا مقدمہ عالمی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے حالیہ صورتحال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو کمزور سمجھنا غلطی ہوگی، کیونکہ وہ متعدد حملوں کے باوجود امتِ مسلمہ کے امن اور استحکام کے لیے تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟