پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ ایک اہم مشاورتی اجلاس میں صوبائی وزرا کی سندھ میں کارکردگی پر گرما گرمی دیکھی گئی ہے جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جگہ ناصر حسین شاہ کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی کرسی خطرے میں پڑ گئی؟
اس اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون اور قانون سازی کے عمل میں پیپلز پارٹی کے کردار پر بحث کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ نچلی سطح پر تنظیم سازی کو مکمل کریں اور آنے والے وقت کے لیے عوامی رابطہ مہم تیز کریں۔
اس اجلاس کا بنیادی مقصد پارٹی کے اندرونی اتحاد کو برقرار رکھنا اور وفاقی حکومت میں اپنے سیاسی وزن کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا تھا۔ قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے۔
’پارٹی کا فیصلہ یہی ہے کہ مراد علی شاہ کی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور وہ اپنی مدت پوری کریں گے‘
ترجمان حکومت سندھ مصطفیٰ بلوچ کے مطابق ان افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مراد علی شاہ وزیر اعلی سندھ ہیں اور جب تک پارٹی چاہے گی وہ رہیں گے، اس وقت پارٹی کی قیادت مراد علی شاہ کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کامران ٹیسوری کو کیوں ہٹایا؟ وزیراعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا سوال
ذرائع کے مطابق ان افواہوں کی کچھ وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے کہ پارٹی کے اندر ایک حلقہ ایسا ہے جو نئے چہروں جیسے ناصر حسین شاہ یا شرجیل میمن کو وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ وفاقی سطح پر ایم کیو ایم اور پی پی پی کے درمیان بعض لوکل گورنمنٹ ترامیم پر ڈیڈ لاک ہے، جس کی وجہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید انتظامی تبدیلی کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔
’صدر آصف علی زرداری وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے خوش ہیں‘
اس اجلاس کے حوالے سے سینیئر صحافی و تجزیہ کار رفعت سعید کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر فرد آزاد ہے اور اپنی خواہشات کو مختلف زاویوں سے پیش کرتا ہے لیکن حال ہی میں گردش کرنے والی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت صدر آصف علی زرداری وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے خوش ہیں اور بلاول بھٹو زرداری میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے۔
سینیئر صحافی حمید سومرو کا کہنا ہے کہ یہ وہی خواب ہے جو مراد علی شاہ کا وزیر بنتے وقت دیکھا جا رہا تھا، آج بھی لوگ خوابوں کی جنت میں رہتے ہیں اور اس پر کوئی پابندی بھی نہیں۔ حمید سومرو کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو زرداری ایک اجلاس کی صدارت کر رہے ہوں اور اس میں ان کے ارکان آمنے سامنے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابات میں کارکردگی دکھا دی، آئندہ بلاول بھٹو کو وزیراعظم منتخب کروائیں گے، مراد علی شاہ
حمید سومرو کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق مرکزی قیادت اس وقت صوبائی قیادت سے مطمئن ہے اور یہی قیادت اپنا وقت پورا کرے گی۔
سینیئر صحافی وقاص باقر کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ خبریں چل رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ میں انتظامی تبدیلی لانا چاہتی ہے تاکہ طرزِ حکمرانی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے حالیہ اجلاسوں میں صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی قیادت نے ان کی کارکردگی کو سراہا ہے اور فی الحال کسی بھی تبدیلی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ نے بھی واضح کیا ہے کہ مراد علی شاہ اپنی مدت پوری کریں گے۔
میئر کراچی (مرتضیٰ وہاب) کے حوالے سے صورتحال
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، اور پارٹی کے اندر بھی بعض حلقوں میں انتظامی امور پر مشاورت کی خبریں آتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں اور بلدیاتی مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اگرچہ میئر کی تبدیلی کا کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا، لیکن قیادت نے کراچی میں نتائج دینے پر زور دیا ہے۔ فی الحال مرتضیٰ وہاب اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔














