لاس اینجلس: چینی ٹیکنالوجی فرم بائٹ ڈانس کی نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایپ سیڈانس 2.0 نے ہالی ووڈ میں کھلبلی مچا دی ہے، کیونکہ یہ ایپ چند تحریری ہدایات سے فلمی معیار کی ویڈیوز بناسکتی ہے، جن میں آوازیں اور مکالمے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سمٹ میں روبوٹ ڈاگ تنازع، بھارت کی تحقیق اور جدت پر سوالیہ نشان
سیڈانس 2.0 کی ویڈیوز چین میں وائرل ہوچکی ہیں، جن میں ایک ویڈیو میں ٹام کروز اور براد پٹ کی لڑائی بھی دکھائی گئی۔ ہالی ووڈ کے بڑے اسٹوڈیوز جیسے ڈزنی اور پیراماؤنٹ نے فوراً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے اثرات صرف قانونی مسائل تک محدود نہیں بلکہ یہ فلمی صنعت میں بنیادی تبدیلی لاسکتی ہے۔
سیڈانس 2.0، جو جون 2025 میں پہلی بار لانچ ہوئی تھی، اپنی دوسری اپ ڈیٹ کے ساتھ سامنے آئی اور اب یہ چھوٹے اسٹوڈیوز کے لیے بھی انتہائی اہم ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ نہ صرف ویڈیو، متن اور آواز کو ایک ساتھ مربوط کرتی ہے بلکہ ایکشن سینز کو حقیقت کے قریب تر دکھاتی ہے، جس سے یہ دیگر اے آئی ویڈیو ماڈلز سے منفرد نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی دوسری ’اے آئی ٹائیگر‘ کمپنی کی ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں شاندار اینٹری
ہالی ووڈ اسٹوڈیوز نے سیڈانس کے ذریعے سپائیڈر مین، ڈارتھ ویڈر اور دیگر مشہور کرداروں کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈزنی اور پیراماؤنٹ نے سیز اینڈ ڈیسسٹ نوٹسز جاری کیے ہیں۔ جاپان نے بھی اینیمے کرداروں کی غیر قانونی تخلیق پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بائٹ ڈانس نے کہا ہے کہ وہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے اقدامات کرے گا۔
فلمی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے اسٹوڈیوز کے لیے سیڈانس ایک نئی راہ کھول رہی ہے، کیونکہ اب وہ کم بجٹ میں ایسے پروڈکشنز تیار کر سکتے ہیں جو پہلے صرف بڑے بجٹ میں ممکن تھیں۔ سنگاپور کی پروڈکشن کمپنی ٹینی آئلینڈ پروڈکشنز کے ڈائریکٹر ڈیوڈ کوک کے مطابق کم بجٹ کی رومانوی اور فیملی ڈرامہ پروڈکشنز اب سائنس فکشن، تاریخی ڈرامہ اور ایکشن جیسے زیادہ پیچیدہ ژانر میں تبدیل کی جاسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کس مسئلے سے دوچار ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 چینی اے آئی ایپس کے بڑے پیمانے پر استعمال کا سال ثابت ہو سکتا ہے، اور یہ صرف چیٹ بوٹس تک محدود نہیں بلکہ ویڈیو تخلیق، کوڈنگ ٹولز اور اے آئی ایجنٹس کی شکل میں روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔













