حالیہ دنوں میں عالمی سفارتی منظرنامے میں پاکستان کا کردار نمایاں طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
خاص طور پر سعودی عرب اور چین کی جانب سے پاکستان کے بارے میں مثبت بیانات نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ اسلام آباد خطے میں استحکام کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بن رہا ہے۔
چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، خصوصاً سی پیک جیسے منصوبے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات پاکستان کی سفارتی اہمیت کو بڑھا رہے ہیں۔
اسی دوران ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی پاکستان کے ممکنہ کردار کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایک اہم سفارتی پیش رفت کے تحت پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ آج اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔ یقیناً یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ مسلم دنیا میں اس کے مؤثر اور فعال کردار کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان جو ایران کے ساتھ سرحدی و ثقافتی روابط رکھتا ہے اور امریکا کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات قائم ہیں، ایک ایسے ثالث کے طور پر سامنے آ سکتا ہے جو کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکے۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مختلف مواقع پر متوازن پالیسی اپنائی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں میں ایک واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں جیو پولیٹکس کے ساتھ ساتھ جیو اکنامکس پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
اس حکمتِ عملی کے تحت پاکستان نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی سطح پر بھی عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔
مئی کی جنگ کے بعد پاکستان کا پروفائل بہتر ہوا، مسعود خالد
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سفارتی تجزیہ کار مسعود خالد کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پروفائل پچھلے سال بھارت کے ساتھ تنازع کے بعد یقینی طور پر بہتر ہوا ہے۔ اب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے اپنے اچھے دفاتر پیش کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اس تنازع کا کوئی فریق نہیں ہے بلکہ ایک سہولت کار کے طور پر کام کررہا ہے۔
مسعود خالد کے مطابق پاکستان کی یہ پیشکش خطے میں امن اور استحکام کے لیے اس کی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے، اور یہ بات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
ان کے مطابق دنیا پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کررہی ہے اور متضاد فریقین پاکستان پر ایک غیر جانبدار کھلاڑی کے طور پر اعتماد کررہے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکا، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کو یہ ذمہ داری سونپنے پر راضی نہ ہوتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اب صرف ایک متوازن پالیسی اپنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ فعال طور پر علاقائی امن میں کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب اور چین کی جانب سے پاکستان کے بارے میں مثبت بیانات بھی اسی سفارتی تصویر کو مزید مضبوط کررہے ہیں۔
مسعود خالد کے مطابق پاکستان کی یہ کوشش عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کررہی ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے اور خطے میں استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب جیو پولیٹکس کے ساتھ ساتھ جیو اکنامکس پر بھی توجہ مرکوز کررہی ہے۔ متوازن رویہ، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن کی کوششوں سے پاکستان عالمی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
پاکستان تمام فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے، عبدالباسط
سابق سفیر عبدالباسط کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان مغربی ایشیا میں جاری تنازع کو کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام فریقوں کے درمیان ایک پل کا کام کر رہا ہے اور یہی بات پورے معاملے میں فرق پیدا کررہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو مسلم دنیا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
ان کے خیال میں امریکا کے ساتھ تعلقات کا زیادہ انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹرمپ کے بعد کون اقتدار میں آتا ہے۔ تاہم عبدالباسط پاکستان اور امریکا کو طویل مدت میں اسٹریٹجک پارٹنرز نہیں سمجھتے۔
ان کا واضح مؤقف ہے کہ اس کے باوجود ہمیں حال پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور موجودہ مواقع کا بہترین فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین پاکستان کا کلیدی اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں چین کے ساتھ تعاون کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔
ان کا یہ مؤقف پاکستان کی موجودہ سفارتی سرگرمیوں کو مثبت قرار دیتا ہے لیکن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داریوں میں احتیاط برتنی چاہیے اور موجودہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔
پاکستان خاموش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے، آصف درانی
سفارتی تجزیہ کار آصف درانی کے مطابق پاکستان کا ایران، امریکا اور اسرائیل کے بحران میں ثالثی کا ابھرتا ہوا کردار فوجی اعتبار، سفارتی توازن اور علاقائی اعتماد کے نادر امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام آباد کے لیے یہ کوئی موقع پرستی نہیں بلکہ ایک ضروری اور حکمت عملی پر مبنی قدم ہے، کیونکہ ایران کی قربت اور ممکنہ اثرات کے خطرے کی وجہ سے پاکستان کو اس صورتحال کا براہ راست سامنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے، حریف کیمپوں سے متوازن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اور خاموش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان خود کو کسی جانبدار کے بجائے ایک پل کا کردار ادا کرنے والا ذمہ دار ملک ثابت کررہا ہے۔ جبکہ دیگر ممالک ہچکچا رہے ہیں، پاکستان کا یہ متوازن اور پختہ رویہ بات چیت کی راہ ہموار کر رہا ہے اور خطے میں امن کی امید پیدا کر رہا ہے۔
آصف درانی کے مطابق اگر پاکستان تناؤ کم کرنے، بات چیت کو جاری رکھنے اور علاقائی استحکام لانے میں کامیاب ہوا تو یہ اس کے کردار کو ایک نئی بلندی پر لے جا سکتا ہے۔ ایک سیکیورٹی پر مبنی ریاست سے ایک علاقائی استحکام کی معتبر اور قابل اعتماد قوت تک۔
ان کا کہنا تھاکہ بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان کی ثالثی کے کردار پر غیر مہذب اور تنقیدی تبصرے بھارت کی مایوسی اور بے چینی کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ششی تھرور نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ نہ صرف ایک ضائع ہونے والا موقع ہے بلکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی جگہ اور اس کی بڑھتی ہوئی ساکھ سے بھارت کی بے چینی کو بھی بیان کرتا ہے، خاص طور پر جب نئی دہلی کے اپنے اتحادی نمونے اس کی لچک کو شدید محدود کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج غیرجانبداری کو مضبوطی سے برقرار رکھنا اور ترکیہ، مصر جیسے بااثر مسلم ممالک کے ساتھ شراکت کے ذریعے اپنے ثالثی کے کردار کو مستحکم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اگر اسے احتیاط اور حکمت کے ساتھ نمٹایا گیا تو یہ لمحہ پاکستان کی عالمی سفارتی شناخت میں ایک مثبت اور پائیدار تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان خطے کا اہم کھلاڑی بن رہا ہے
انہوں نے مزید کہاکہ یہ صورتحال پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی، ذمہ داری اور علاقائی امن کے لیے اس کی حقیقی وابستگی کو اجاگر کر رہی ہے۔ پاکستان نہ صرف خطے کا ایک اہم کھلاڑی بن رہا ہے بلکہ ایک ایسا ملک بھی جو مختلف طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی سطح پر بدلتے اتحاد اور نئی صف بندیوں کے درمیان پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ کسی ایک بلاک تک محدود ہونے کے بجائے ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی اپنائے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف عالمی طاقتیں پاکستان کو ایک ایسے پارٹنر کے طور پر دیکھ رہی ہیں جو خطے میں استحکام اور رابطہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے۔














