سعودی عرب میں ماحول دوست منصوبے ترجیح بن گئے، نئی حکمت عملی متعارف

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں پائیدار ترقی اب صرف وژن یا اعلانات تک محدود نہیں رہی بلکہ بڑے منصوبوں میں اس پر عملی طور پر کام تیز ہو گیا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی، جدید فریم ورک اور نگرانی کے نظام کے ذریعے ماحول دوست منصوبوں کو عملی شکل دی جا رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اب بھی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: ریاض میٹرو کا سب سے بڑا ویسٹرن اسٹیشن مکمل طور پر فعال

عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت ماحول دوست ترقی کو اہم ہدف بنایا ہے، لیکن ییل انوائرمنٹل پرفارمنس انڈیکس میں سعودی عرب کی درجہ بندی اب بھی 108ویں نمبر پر ہے، جبکہ ہدف 70ویں نمبر تک پہنچنے کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں پائیدار ترقی کے منصوبوں کو عملی شکل دینا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

پروجیکٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 رپورٹ کے مطابق 35 فیصد اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے درمیان خلا ہی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ گلوبل پروجیکٹ مینجمنٹ کے ماہر ڈاکٹر جوئل کاربونی کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پائیداری کے اہداف کو منصوبوں کے عملی ڈھانچے میں مؤثر انداز میں شامل نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: جازان ریجن میں ’شریفے‘ کی سالانہ پیداوار میں غیر معمولی اضافہ

انہوں نے کہا کہ اگر کسی منصوبے کے آغاز ہی سے توانائی، پانی، فضلہ اور ماحولیات سے متعلق اہداف شامل کر لیے جائیں تو اخراجات کم رہتے ہیں، لیکن بعد میں تبدیلیاں کرنا مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے اب خلیجی ممالک میں پائیداری کو صرف رپورٹنگ کا حصہ نہیں بلکہ منصوبوں کے بنیادی معیار کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں اب بڑی کمپنیوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹنگ لازمی قرار دی جا رہی ہے جبکہ سعودی عرب میں نیوم جیسے بڑے منصوبوں میں قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس اور 100 فیصد ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ جیسے اہداف پر کام جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق پانی اور توانائی کا باہمی تعلق اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ زیادہ پانی پیدا کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ سعودی واٹر کمپنی ساواکو کے حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کم توانائی استعمال کرتے ہوئے زیادہ پانی حاصل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج نئی ماحول دوست ٹیکنالوجی ایجاد کرنا نہیں بلکہ اسے بڑے پیمانے پر عملی نظام کا حصہ بنانا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے طویل مدت میں ماحول، معیشت اور وسائل تینوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp