سنگاپور میں بزرگ افراد میں اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نئی سماجی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں متعدد خاندان اپنے والدین اور بزرگوں کی بدلتی طرزِ زندگی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
32 سالہ ہلڈا کے مطابق ان کے 77 سالہ والد اکثر کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے اسمارٹ فون استعمال کرتے کرتے سو جاتے ہیں، جبکہ ان کے سامنے مختصر ویڈیوز مسلسل چلتی رہتی ہیں۔ یہ ویڈیوز عموماً فیس بک ریلز اور ٹک ٹاک پر مشتمل ہوتی ہیں، جن میں مزاحیہ کلپس سے لے کر فلمی مناظر تک شامل ہوتے ہیں۔
ہلڈا کا کہنا ہے کہ ان کے والد زیادہ تر وقت گھر میں اکیلے گزارتے ہیں اور اسمارٹ فون میں مصروف رہتے ہیں۔ خاندانی تقریبات اور کھانے کے دوران بھی ان کی توجہ فون پر مرکوز رہتی ہے، جس سے باہمی روابط متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بچپن سے سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا خاتون نے گوگل اور میٹا کے خلاف مقدمہ جیت لیا
یہ مسئلہ اب صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہا بلکہ سنگاپور کے مختلف گھروں سے اسی نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صارفین اپنے بزرگ والدین کے بڑھتے اسکرین ٹائم اور سماجی تنہائی پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال عموماً نوجوانوں سے جوڑا جاتا تھا، تاہم اب بزرگ افراد میں بھی اس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 2020 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 75 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں اسمارٹ فون کے استعمال کی شرح 2019 کے 41 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 60 فیصد ہو گئی۔ اس میں کورونا وبا نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے اسکولوں میں بچوں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
مزید برآں 2023 تک تقریباً 89 فیصد بزرگ شہریوں کے پاس اسمارٹ فون موجود تھا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ اسمارٹ فون بزرگ افراد کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے، تاہم اس کا حد سے زیادہ استعمال ذہنی صحت اور سماجی تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کے لیے متوازن استعمال ناگزیر ہے۔












