پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ 2026 کے دوران کھلاڑیوں کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول مزید سخت کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور کھلاڑی سکندر رضا سے متعلق ایک واقعے کے بعد کیا گیا۔
نئی ہدایات کے مطابق کھلاڑیوں کو ہوٹل کے کمروں میں مہمان بلانے پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم صرف قریبی اہلِ خانہ کو استثنا دیا گیا ہے۔ اس کے لیے بھی 24 گھنٹے پہلے ٹیم مینجمنٹ اور سیکیورٹی حکام کو آگاہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ دیگر ملاقاتیں صرف ہوٹل کے مخصوص عوامی یا کاروباری مقامات پر پیشگی اجازت کے بعد ہی ممکن ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل 11: بارش کے باعث اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کا میچ منسوخ
یہ اقدامات 28 مارچ کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کیے گئے، جب ایک اہم میچ سے قبل سیکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آئی۔ پنجاب پولیس کے مطابق ٹیم کے لائژن افسر نے 2 مرتبہ 4 افراد کی سکندر رضا کے کمرے میں ملاقات کی اجازت طلب کی، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث پی سی بی کے سیکیورٹی اور اینٹی کرپشن مینیجر اور پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
اس کے باوجود مبینہ طور پر کھلاڑیوں نے سیکیورٹی عملے کو نظر انداز کرتے ہوئے مہمانوں کو ہوٹل کے 8ویں فلور پر لے گئے، جہاں وہ 2 گھنٹے سے زائد قیام پذیر رہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے سیکیورٹی نظام میں سنگین خلل قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جرمانوں سے پابندیوں تک، پی ایس ایل کے پہلے 4 دن کتنے دھماکا خیز رہے؟
سکندر رضا نے بعد میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کھلاڑیوں کو ہوٹل میں مہمان بلانے کی اجازت ہوتی تھی اور انہیں نئے سخت قوانین کا مکمل علم نہیں تھا۔ انہوں نے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔
پی سی بی اور صوبائی حکام نے واضح کیا ہے کہ اب سیکیورٹی پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، اور ٹورنامنٹ کے محفوظ انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا۔














