عالمی بحری گزرگاہوں میں رکاوٹ کے باعث پاکستانی بندرگاہوں، بالخصوص کراچی اور پورٹ قاسم کی اہمیت میں عالمی سطح پر غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ایل پی جی کی ہینڈلنگ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا اور 6 جہازوں کے ذریعے 60 ہزار کیوبک میٹر گیس لائی گئی جبکہ 11 بحری جہازوں نے لنگر انداز ہو کر قریباً 4 لاکھ 17 ہزار 390 میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات آف لوڈ کیں۔
پورٹ قاسم اتھارٹی نے آپریشنز میں تیزی لانے کے لیے ایل پی جی جہازوں کے لیے نائٹ نیویگیشن کا آغاز کر دیا ہے، جس سے جہازوں کے انتظار کا وقت بھی ختم ہوگیا ہے۔
دوسری جانب عالمی شپنگ لائنز نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اپنے رخ پاکستان کی طرف موڑ دیے ہیں، جس سے پاکستان ایک اہم ٹرانزشپمنٹ ہب کے طور پر ابھرا ہے۔
ریکارڈ ہینڈلنگ اور آپریشنل کامیابی
پورٹ قاسم حکام کے مطابق مارچ 2026 کے دوران فوٹکو (FOTCO) ٹرمینل پر 11 بحری جہازوں نے لنگر انداز ہو کر قریباً 4 لاکھ 17 ہزار 390 میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات آف لوڈ کیں۔
عالمی معیار اور مستقبل
سینیئر صحافی جنید خان کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران کراچی اور قاسم پورٹ پر 17 سے زیادہ بڑے جہازوں کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب خطے میں توانائی کی ری ڈسٹری بیوشن کا مرکز بن رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید VTMS سسٹم اور ERP ٹیکنالوجی کے انضمام نے پاکستانی بندرگاہوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لا کھڑا کیا ہے، جو کسی بھی عالمی ہنگامی صورتحال میں تجارت کو راستہ فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔













