ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرین نے گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوٹیوب اور یوٹیوب کڈز پر بچوں کے لیے تیار کی جانے والی اےا ٓئی ویڈیوز کو دکھانے یا تجویز کرنے سے روکے۔

200 سے زائد ماہرین، اداروں اور تعلیمی اداروں نے گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو خط لکھا ہے، جس میں بچوں کے لیے اےا ٓئی ویڈیوز کے تعلیمی معیار اور اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاک اور یوٹیوب کریئیٹرز کو ماہانہ 3 ہزار ڈالر دینے کا اعلان

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز زیادہ تر مالی فائدے کے لیے تیار کی جاتی ہیں اور بچوں کی توجہ اور سماجی مہارتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مواد کو دیکھنے سے بچے حقیقت اور فریب میں فرق کرنے میں الجھ سکتے ہیں۔

سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ، ادارہ فیئر پلے اور نیشنل الائنس ٹو ایڈوانس ایڈولیسنٹ ہیلتھ کے ماہرین نے کہا کہ بچوں کی سکرین ٹائم، خاص طور پر خراب معیار کی اےا ٓئی ویڈیوز، حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں، جو بچوں کی جذباتی اور سماجی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔

یوٹیوب صارفین سے کہتا ہے کہ وہ مصنوعی یا ترمیم شدہ مواد کی نشاندہی کریں اور اسپیمی اےا ٓئی ویڈیوز کے خلاف اقدامات کرتا ہے۔ یوٹیوب کے سی ای او نے جنوری میں کہا تھا کہ اے آئی مواد کا نظم و نسق ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم بچوں کے حقوق کے ماہرین کے مطابق چھوٹے بچے ان نشانات کو پڑھ یا سمجھ نہیں سکتے، اس لیے یہ اقدامات کم مؤثر ہیں۔

مارچ میں گوگل نے Animaj میں سرمایہ کاری کی جو اےآئی اینیمیشن اسٹوڈیو ہے اور بچوں کے لیے مواد تیار کرتا ہے، جسے ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے نہیں دکھانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب نے فری صارفین کے لیے بیک گراؤنڈ ویڈیو چلانے کا راستہ بند کر دیا

یہ مہم اس وقت سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا کمپنیوں کی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلوں میں گوگل اور میٹا پلیٹ فارمز کو نوجوان صارفین میں سوشل میڈیا کی لت کے لیے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا زور ہے کہ بچوں کی صحت اور نشوونما کے لیے اے آئی ویڈیوز کو محدود کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حقیقی تجربات سے محروم نہ ہوں اور دماغی و سماجی ترقی متاثر نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp