امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن کی پرواز سیدھے چاند کی طرف جانے کے بجائے مخصوص فگر ایٹ یعنی آٹھ کے ہندسے جیسا راستہ اختیار کرے گی، جس کا مقصد مشن کی حفاظت، ایندھن کی بچت اور مستقبل کی چاند مہمات کے لیے اہم تجربات حاصل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 دہائیوں بعد انسان دوبارہ چاند کی طرف روانہ، ناسا نے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کردیا
ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اوریون خلائی جہاز نے حال ہی میں اپنے سروس ماڈیول کے مرکزی انجن کو تقریباً 6 منٹ تک فعال کیا، جس سے تقریباً 6 ہزار پاؤنڈ تھرسٹ پیدا ہوئی اور خلانوردوں کو چاند کی سمت روانہ ہونے کے لیے مطلوبہ رفتار حاصل ہوئی۔
It’s not a straight shot to the far side of the Moon! 🌕
Over approximately 10 days, the Artemis II astronauts will orbit Earth twice before looping around the far side of the Moon in a figure eight and returning home. pic.twitter.com/udjejhxgVx
— NASA (@NASA) April 2, 2026
ماہرین کے مطابق آرٹیمس 2 کا سفر ماضی کے اپالو مشنز کی طرح براہ راست نہیں ہوگا بلکہ یہ تقریباً 10 روز پر مشتمل فری ریٹرن ٹریجیکٹری پر مبنی ہوگا، جس میں خلائی جہاز پہلے زمین کے گرد مخصوص مدار میں گردش کرے گا اور بعد ازاں چاند کے گرد گھومتے ہوئے دوبارہ زمین کی طرف واپس آئے گا۔
ناسا کے مطابق مشن کے آغاز میں خلائی جہاز کو 24 گھنٹے تک زمین کے بیضوی مدار میں رکھا گیا تاکہ حفاظتی جانچ، نظاموں کی کارکردگی اور خلانوردوں کی عملی مشقیں مکمل کی جاسکیں۔ اس دوران عملے نے خلائی جہاز کی دستی کنٹرول مشقیں بھی انجام دیں تاکہ آئندہ چاند پر لینڈنگ مشنز کے لیے ضروری معلومات حاصل کی جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا سائنسدان خلا میں پراسرار طور پر بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھا
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر سیدھی اوپر کی سمت نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسا کرنے سے ایندھن کی بڑی مقدار ضائع ہوتی ہے اور کششِ ثقل خلائی جہاز کو دوبارہ زمین کی طرف کھینچ سکتی ہے۔ اسی لیے خلائی جہاز کو تیز رفتاری سے زمین کے گرد گھماتے ہوئے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
آرٹیمس 2 مشن چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بجائے اس کے دور والے حصے کے گرد فگر ایٹ راستے پر سفر کرے گا، جہاں چاند کی کششِ ثقل کو سلنگ شاٹ کی طرح استعمال کیا جائے گا۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اگر کسی مرحلے پر انجن کام کرنا بند بھی کر دے تو خلائی جہاز قدرتی طور پر زمین کی طرف واپس آسکے گا۔
ناسا کے مطابق یہ مشن زمین سے 248 ہزار میل سے زائد فاصلے تک پہنچے گا، جو اس مرحلے پر ایک ریکارڈ فاصلہ ہوگا۔ اپالو مشنز چاند کی سطح سے تقریباً 60 سے 70 میل کی بلندی تک گئے تھے، جبکہ آرٹیمس 2 چاند سے 4 ہزار سے 6 ہزار میل کی بلندی سے گزرے گا، جس سے چاند کے دور دراز حصے کا وسیع منظر بھی حاصل ہوگا اور واپسی کا سفر زیادہ محفوظ رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا اور جنوبی کوریا کا مشترکہ ڈیپ اسپیس مشن کیا ہے؟
خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ اس منفرد راستے کے دوران حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کے آرٹیمس سوم اور آرٹیمس چہارم مشنز کی تیاری میں اہم کردار ادا کریں گے۔













