ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوکو سے تیار ہونے والی اشیا کو متعدد طبی فوائد سے جوڑا جاتا ہے، تاہم عام بازار میں دستیاب چاکلیٹ اتنی مفید نہیں جتنی عام طور پر تصور کی جاتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کوکو دل کی صحت بہتر بنانے، بڑھاپے کے اثرات کم کرنے اور دماغی صلاحیتوں کو تیز رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ان فوائد کی بنیادی وجہ فلیوینولز نامی قدرتی نباتاتی مرکبات اور تھیوبرومین نامی قدرتی محرک مادہ ہیں، جو کوکو کے پودے میں پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ڈارک چاکلیٹ کھانے سے شوگر کا مرض کنٹرول ہوسکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق فلیوینولز طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو بلڈ پریشر کم کرنے اور دل کی بیماریوں کے خطرات گھٹانے میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ تھیوبرومین دماغ تک پہنچ کر اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذہنی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ 2024 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مادہ عمر سے متعلق دماغی کمزوریوں، بشمول الزائمر اور پارکنسن جیسے امراض کے خلاف حفاظتی کردار ادا کرسکتا ہے۔
2025 میں ہونے والے ایک جامع تجزیے کے مطابق فلیوینولز سے بھرپور غذائیں دل سے متعلق بیماریوں سے موت کے خطرے کو کم کرسکتی ہیں۔ ایک بڑی تحقیق میں روزانہ 500 ملی گرام کوکو فلیوینول سپلیمنٹ استعمال کرنے والے افراد میں دل کی بیماری سے اموات کا خطرہ 27 فیصد کم دیکھا گیا، تاہم تحقیق کاروں نے واضح کیا کہ یہ نتائج کوکو کے مخصوص حیاتیاتی اجزا سے متعلق ہیں، نہ کہ عام چاکلیٹ کھانے سے حاصل ہونے والے فوائد سے۔
یہ بھی پڑھیں: چاکلیٹ چپ کوکیز بنانا نہایت ہی آسان
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ تھیوبرومین رکھنے والے افراد کی حیاتیاتی عمر ان کی حقیقی عمر کے مقابلے میں کم دیکھی گئی، جس سے بڑھاپے کی رفتار سست ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔
غذائیت اور موٹاپے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ، حتیٰ کہ ڈارک چاکلیٹ بھی، بنیادی طور پر ایک لذت بخش خوراک ہے نہ کہ مکمل صحت بخش غذا، کیونکہ اس میں کوکو بٹر کے ساتھ چکنائی اور شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چاکلیٹ کا استعمال اعتدال میں رکھا جائے تاکہ ذائقہ بھی برقرار رہے اور صحت پر منفی اثرات سے بھی بچا جاسکے۔














